پاکستان اور بھارت ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل | حالات حاضرہ | DW | 15.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان اور بھارت ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل

عالمی امن پر تحقیق کرنے والے ادارے سپری (SIPRI) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پوری دنیا میں درآمدکیے جانے والے مجموعی ہتھیاروں کا ایک تہائی سے زیادہ امریکا نے فروخت کیااور اس نے اپنے تقریباً نصف ہتھیار مشرق وسطیٰ کے ممالک کو برآمد کیے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی طرف سے پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سن 2016 سے سن 2020 تک پوری دنیا میں اسلحے کی فروخت کا رجحان کم ہوتا دکھائی دیا جب کہ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، چین اورجنوبی کوریا اسلحہ درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا اور اوشینیا ہتھیار درآمد کرنے والے سب سے بڑے خطے رہے۔ سن 2016سے سن 2020کے درمیان اس خطے کے ملکوں میں عالمی ہتھیاروں کا 42 فیصد درآمد کیا گیا۔

سپری کے سینیئر محقق زیمون ویزے مین کے مطابق، ”ایشا اور اوشینیا کے بہت سے ممالک میں یہ سوچ گہری ہو رہی ہے کہ اسلحے کی درآمد میں اضافے کی وجہ چین کی وجہ سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔"

سعودی عرب ہتھیار درآمد کرنے والوں میں سرفہرست

سپری کی رپورٹ کے مطابق سن 2011 سے سن 2015 کے مقابلے میں سن 2016 سے سن 2020 تک کے درمیان مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی درآمد میں سب سے زیادہ 25 فیصد کا اضافہ ہوا۔

سعودی عرب دنیا میں ہتھیار درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے ہاں ہتھیاروں کی درآمد میں 61 فیصد اضافہ ہوا جبکہ قطر میں ہتھیاروں کی درآمد میں 361 فیصد اضافہ ہوا۔

متحدہ عرب امارات نے پچھلے دنوں امریکا سے 23 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت یو اے ای امریکا سے پچاس ایف 35 جنگی طیارے اور 18مسلح ڈرونز خریدے گا۔

امریکا ہتھیار فروخت کرنے میں سب سے آگے

سن 2016 سے سن 2020 تک کے درمیان دنیا بھر میں جتنے بھی ہتھیار فروخت کیے گئے، ان کا 37 فیصد امریکا نے فروخت کیا۔ امریکا نے 96 ملکوں کو ہتھیار برآمد کیے۔

سپری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکانے جتنے ہتھیار فروخت کیے، ان کا تقریباً نصف مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو فروخت کیا گیا۔ سن 2011 سے سن 2015 تک کے مقابلے میں امریکی ہتھیاروں کی برآمد میں پندرہ فیصد کا اضافہ بھی ہوا۔

اسلحہ کے رجحان میں کمی

سپری کی رپورٹ کے مطابق سن 2016 سے سن 2020 تک پوری دنیا میں اسلحے کی فروخت نسبتاً کم رہی۔ تحقیق کے مطابق ایک دہائی تک اسلحے کی فروخت میں اضافے کا رجحان جاری رہنے کے بعد اب اس میں کمی دیکھی گئی ہے۔

اسلحہ برآمد کرنے والے تین بڑے ملکوں امریکا، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اسلحے کی برآمد میں اضافہ ہوا لیکن روس اور چین کی برآمدات میں کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق روس ہتھیار برآمد کرنے والا دنیا کا دوسراسب سے بڑا ملک ہے جبکہ فرانس تیسرے نمبر پر ہے۔ تاہم بھارت کی طرف سے روسی ہتھیاروں کی درآمد میں کمی کی وجہ سے روسی ہتھیاروں کی برآمد میں کمی ہوئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سن2001 سے لے کر سن 2005 تک کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مختلف ملکوں کے درمیان اسلحے کے بڑے سودے نہیں ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھیاروں کی طلب میں کمی ہوئی ہے۔

کووڈ کے اثرات، کچھ کہنا قبل از وقت

سپری کے مطابق کورونا کی وبا کی وجہ سے دنیا بھرمیں قومی معیشتیں بری طرح متاثر ہوئیں اور متعدد ممالک گہرے معاشی زوال کا شکار ہیں۔ لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ اسلحے کی فروخت میں ہونے والی کمی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر محقق ویزے مین کا کہنا تھا، ”کووڈ انیس کے معاشی اثرات کے پیش نظر آنے والے برسوں میں بعض ممالک کو اپنے ہاں اسلحے کی درآمدات کا نئے سرے سے جائزہ لینا ہو گا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب سن 2020 میں کورونا وائرس کی وبا زوروں پر تھی، تب بھی ہتھیاروں کی تجارت کے بڑے معاہدے بہرحال کیے گئے۔‘‘

ج ا / م م (ڈی پی اے، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 03:36

پرانی بندوقیں اور اسلحہ جمع کرنے کا انوکھا شوق

 

DW.COM