پاکستانی قرضوں کے بارے میں ’مکمل شفافیت‘ درکار ہے، آئی ایم ایف | حالات حاضرہ | DW | 11.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی قرضوں کے بارے میں ’مکمل شفافیت‘ درکار ہے، آئی ایم ایف

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ایک اور بیل آؤٹ پیکج کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ادارے کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کو چینی قرضوں سمیت تمام قرضوں کے بارے میں ’مکمل شفافیت‘ اپنانا ہو گی۔

اسلام آباد حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ انڈونیشیا میں جاری آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کے حاشیے پر لاگارڈ نے پاکستانی وزیر خزانہ اسد عمر اور پاکستان کے مرکزی بینک گورنر طارق باجوہ سے ملاقات کی۔ آئی ایم ایف کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران پاکستان نے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کی باقاعدہ درخواست کی۔

عالمی مالیاتی ادارے اور اسلام آباد کے مابین مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ پاکستان کے لیے تیرہواں بیل آؤٹ پیکج ہو گا۔ سن 2013 میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6.7 بلین مالیت کا قرض لیا تھا۔

’چینی قرضوں کی مالیت کتنی ہے؟‘

کرسٹین لاگارڈ کا تاہم یہ بھی کہنا تھا کہ نئے بیل آؤٹ پیکج کے مذاکرات میں پاکستان کو چین سمیت تمام دیگر ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں کے بارے میں ’مکمل شفافیت‘ اختیار کرتے ہوئے تفصیل فراہم کرنا ہو گی۔

Karte Map China Pakistan Economic Corridor

ایک نیوز کانفرنس کے دوران اسلام آباد کو قرضہ فراہم کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی خاتون سربراہ کا کہنا تھا کسی ملک کو بھی بیل آؤٹ پیکج دینے سے قبل اس کے تمام قرضوں کے بارے میں مکمل آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ لاگارڈ کے مطابق، ’’ہم مشترکہ طور پر جو بھی کام کریں گے، اس سے پہلے متعلقہ ملک کے قرضوں کی نوعیت، حجم اور قرض کی شرائط کے بارے میں مکمل علم اور شفافیت کا ہونا ضروری ہے۔‘‘

بالی میں جاری آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ’’آئی ایم ایف کے تعاون سے ممکنہ معاشی پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم آئندہ ہفتوں کے دوران اسلام آباد کا دورہ کرے گی۔‘‘

ابھی تک پاکستان یا آئی ایم ایف کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان نے کتنا قرض حاصل کرنے کی درخواست کی تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان کو زبوں حال معیشت سنبھالنے اور ادائیگیوں میں عدم توازن کے خاتمے کے لیے کم از کم 8 بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف پر بھی ’امریکی دباؤ‘؟

بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی سربراہ کی جانب سے چین سے لیے گئے قرضوں کے حجم اور شرائط کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کے مطالبے کے بعد آئندہ دنوں میں چین اور پاکستان کے مابین طے شدہ معاہدوں پر توجہ مرکوز ہو جائے گی۔ بیجنگ نے اپنے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے تحت پاکستان میں بھی ’پاک چین اقتصادی راہداری‘ نامی منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ سی پیک کہلائے جانے والے اس منصوبے کے تحت چین نے پاکستان میں بندرگاہ، ریلوے نیٹ ورک اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ تاہم قرضوں میں اضافے کے سبب اسلام آباد نے اس منصوبے کے تحت جاری منصوبوں میں قریب دو بلین ڈالر کمی کر دی ہے۔

امریکا پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک میں چینی سرمایہ کاری اور قرضے دینے کے شدید خلاف ہے۔ واشنگٹن کے مطابق چین کئی ایسے ممالک کو بھی قرض دے رہا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ قرضے کی ادائیگی نہیں کر پائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج دیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ایسے پیکج کا کوئی جواز نہیں جسے حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد چینی قرضوں کی ادائیگی کرے گا۔

امریکا حالیہ برسوں کے دوران پاکستان پر افغانستان میں قیام امن کے لیے تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسلام آباد پر دباؤ بڑھائے ہوئے ہے۔

ش ح / ا ا (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM