پاکستانی فلمی صنعت: زوال کی گرد سے عروج کے چڑھتے سورج تک | فن و ثقافت | DW | 31.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

پاکستانی فلمی صنعت: زوال کی گرد سے عروج کے چڑھتے سورج تک

پاکستانی فلمی صنعت گزشتہ تین دہائیوں سے جس زوال کا شکار رہی ہے، اس کے خاتمے کا آغاز 2013 میں شعیب منصور کی فلم ’بول‘ سے ہوا تھا۔ یہ حوصلہ افزا بحالی آج تک جاری ہے اور فلم انڈسٹری کے حالات میں مزید بہتری کی اُمید ہے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری میں عروج و زوال مجموعی طور پر کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اس صنعت میں مسلسل تین عشروں تک اتار کے بعد چڑھاؤ کا تسلسل 2018 میں بھی خوش آئند طریقے سے جاری رہا۔ پچھلے چند برسوں میں کئی انتہائی کامیاب فلمیں ریلیز کی گئیں، جو باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئیں۔ ان میں سے سب سے مشہور اور زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں 'وار‘، ’میں ہوں شاہد آفریدی‘، فرجاد نبی کی 'زندہ بھاگ‘، 2014 میں نبیل قریشی کی کامیڈی تھرلر فلم 'نامعلوم افراد‘، 2015 میں یاسر جسوال کی 'جلیبی‘، شرمین عبید چنوئے کی 'تین بہادر‘، مومنہ دورید کی 'بن روئے‘، ندیم بیگ کی 'جوانی پھر نہیں آنی‘، جامی کی 'مور‘ اور سرمد گھوسٹ کی 'منٹو‘ شامل ہیں۔

2016 میں عاصم رضا کی 'ہو من جہاں‘، اظہر جعفری کی 'جاناں‘، نبیل قریشی کی 'ایکٹر ان لا‘، عاشر عظیم کی 'مالک‘، 2017 میں ندیم بیگ کی 'پنجاب نہیں جاؤں گی‘، شعیب منصور کی 'ورنہ‘ اور فرحان اسلم کی 'ساون‘ بھی خاص طور پر قابل ذکر رہیں۔ 2018 بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک اچھا سال رہا، جس دوران کئی فلمیں نہایت کامیاب رہیں اور ان پروڈکشنز نے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے کے علاوہ متاثر کن کاروبار بھی کیا۔

فلمی موضوعات میں نیا شعور

اس سال کا آغاز اظہر جعفری کی کامیڈی کرائم فلم 'پرچی‘ سے ہوا تھا، جو جنوری میں ریلیز ہوئی اور جس میں حریم فاروق، علی رحمان اور شفقت چیمہ نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم کا بجٹ پانچ کروڑ روپے تھا اور اس نے باکس آفس پر سترہ کروڑ روپے کمائے۔ اس کے بعد عزیر ظہیر خان کی کارٹون فلم 'اللہ یار اور مارخور کی کہانی‘ جو فروری میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ ایک شرارتی بچے اللہ یار کی کہانی ہے جو مشکل حالات میں جانوروں کے غیرقانونی شکار کے خلاف مارخور 'مہرو‘ اور برفانی چیتا 'چکو‘ کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس فلم نے باکس آفس پر قریب پانچ کروڑ کمائے اور یہ خاص طور پر بچوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس فلم کا فروری میں ہی مقابلہ ایک رومینٹک کامیڈی فلم 'مان جاؤ نا‘ سے تھا، جس نے باکس آفس پر سوا تین کروڑ روپے کا بزنس کیا اور بہت کامیاب نہیں مانی گئی تھی۔

مارچ میں اس سال کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک 'کیک‘ ریلیز ہوئی، جس کے ڈائریکٹر عاصم عباس تھے اور جو ایک کامیڈی ڈرامہ فلم تھی۔ یہ فلم اردو اور سندھی زبانوں کا ملاپ بھی تھی اور اس نے باکس آفس پر کروڑوں روپے کمائے۔ 'کیک‘ کی کہانی چند بہن بھائیوں میں مقابلے کے گرد گھومتی ہے، جن میں سے ایک بہن بیرون ملک آباد ہو جاتی ہے جبکہ دوسری ملک میں اپنے گھر پر ہی رہ جاتی ہے۔ یہ فلم ان بہنوں کے باہمی تعلقات اور والدین سے رشتوں کی کہانی ہے، جن میں کئی بار اونچ نیچ آتی ہے۔ اس فلم کو آسکر ایوارڈ کے لیے بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کے شعبے میں بھی نامزد کیا گیا تھا اور اسی فلم کے لیے عاصم عباس کو برطانیہ کے 'UK ایشین فلم فیسٹیول‘ کا بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔

سچی کہانی اور حقیقی کردار

اپریل میں ایک فلم 'موٹر سائیکل گرل‘ ریلیز ہوئی، جو ایک ایکشن ڈرامہ فلم تھی اور جس میں سوہا علی ابرو اور زینتھ عرفان مرکزی کردار تھے۔ مشہور اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کے علاوہ سرمد گھوسٹ، علی کاظمی اور شمیم ہلالی اس فلم کے سپورٹنگ کریکٹر تھے۔ اس فلم میں زینتھ عرفان نے اپنی ہی زندگی کی کہانی کا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے دور دراز شمالی علاقہ جات میں موٹر سائیکل پر اکیلے سفر کی کہانی بیان کی۔ زینتھ عرفان نے یہ سفر اپنے والد کی اس خواہش پر کیا تھا کہ ان کی بیٹی خود مختار اور دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو۔ اس فلم نے باکس آفس پر دو کروڑ سے زائد کا بزنس کیا اور ایک cult فلم کے طور پر سامنے آئی۔ اس فلم میں مرکزی خاتون کردار کا موٹر سائیکل پر یہ سفر لاہور سے ہنزہ تک جاتا ہے۔

جون میں عیدالفطر کے موقع پر چار فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک فلم 'سات دن، محبت اِن‘ تھی، جس میں ماہرہ خان اور شہریار منور نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ یہ ایک رومینٹک کامیڈی فلم تھی، جس میں اداکاروں کی کارکردگی بھی بہت مضبوط تھی اور مناظر کی عکس بندی نے بھی ناظرین کی اکثریت کے دل موہ لیے تھے۔ یہ دو افراد کی محبت کی شادی کے سفر میں پیش آنے والے مصائب اور ان پر قابو پائے جانے کی کہانی تھی، جس نے باکس آفس پر تیرہ کروڑ روپے کمائے تھے۔

اس فلم کا مقابلہ اس کے ساتھ ہی ریلیز ہونے والی ایک اور بڑی فلم 'طیفہ اِن ٹربل‘ سے تھا، جس کے ہدایتکار احسن رحیم تھے۔ یہ ڈھائی گھنٹے کی ایک ایسی رومینٹک ایکشن فلم ہے، جس کی کہانی میں لاہور کا ایک چالاک مڈل کلاس لڑکا طیفہ جرائم کی دنیا سے ہوتے ہوئے پولینڈ پہنچ کر مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ وارسا میں ایکشن اور رومانس کے گرد گھومتی اس فلم نے بیالیس کروڑ روپے سے زائد کما کر پاکستانی سینما کی تاریخ میں چوتھی سب سے زیادہ رقم کمانے والی فلم کا اعزاز حاصل کیا۔

فضائیہ، جنگ اور رومانس

ایک اور بڑی فلم اگست میں عید قربان کے موقع پر ریلیز ہوئی، جس کا نام 'پرواز ہے جنوں‘ تھا۔ اس کے ہدایت کار حسیب حسن تھے اور اہم کردار حمزہ علی عباسی، مرینہ خان، ہانیہ عامر اور کبریٰ خان نے ادا کیے تھے۔ یہ فلم بنیادی طور پر فضائی جنگ اور رومانس پر مبنی ہے، جس کا ایک مقصد پاکستان ائیر فورس کی طاقت اور عظمت کی عکاسی بھی تھا۔ اس فلم نے چالیس کروڑ روپے کمائے۔

ریکارڈ بزنس کرنے والی فلم

دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بھی ریلیز ہوئی، جس کا نام تھا، 'جوانی پھر نہیں آنی، پارٹ ٹو‘۔ یہ اسی نام کی 2015 کی ایک فلم کا تسلسل تھا، جس کے ہدایتکار مشہور پاکستانی اداکار ندیم تھے اور اس کے کئی مرکزی کردار تھے، جو مشہور اداکاروں ہمایوں سعید، فہد مصطفیٰ، احمد علی بٹ اور واسع چوہدری نے ادا کیے۔ یہ فلم باکس آفس پر اب تک تقریباً 67 کروڑ روپے کما چکی ہے۔

'ڈونکی کنگ اور ممکنہ سیاسی استعارے

پاکستان میں سال 2018 کی آخری بڑی فلم، جس نے بے پناہ مقبولیت پائی اور جو ملکی سیاسی حالات سے متعلق ممکنہ استعاروں کے باعث بھی بہت مشہور ہوئی، وہ فلم 'ڈونکی کنگ‘ تھی۔ اس فلم کا ایک گیت 'ڈونکی راجہ‘ تو عوام میں غیر معمولی حد تک مقبول ہو گیا۔ یہ ایک کارٹون کامیڈی فلم ہے، جس میں جانوروں کے ایک دیس کی کہانی میں مرکزی کرداروں کی آوازوں کے لیے مشہور فنکاروں جان ریمبو، اسماعیل تارہ، جاوید شیخ، غلام محی الدین اور حنا دلپذیر نے اپنی خدمات مہیا کیں۔

اس فلم کی شہرت کی وجہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے کی نسبت سے اس کے جاری کیے جانے کا وقت بھی تھا۔ پاکستان میں جولائی کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کا وزیر اعظم بننا ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا واقعہ اور کامیابی تھے۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسے گدھے کی داستاں ہے، جو اپنی چالاکیوں اور مکاریوں سے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ 'ڈونکی راجہ‘ کہلانے لگتا ہے۔ یہ فلم بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہوئی اور اسے بہت سے پاکستانی سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں نے بھی خاص طور پر دیکھا۔ اکتوبر میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے مصنف اور ہدایتکار عزیز جندانی ہیں اور اب تک یہ فلم تئیس کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کر چکی ہے۔

عشق و محبت کی روایتی داستانوں سے لے کر تحفظ ماحول، فضائی دفاع، حقیقی زندگی کی اصل کہانیوں اور تفریح کو استعاراتی سطح پر سیاست سے جوڑ دینے والی فلمیں اور ان کی بے تحاشا کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فلمی صنعت ماضی کے زوال کی گرد سے باہر نکل آئی ہے اور اسے دوبارہ اپنے عروج کا سورج چڑھتا نظر آ رہا ہے۔