پاکستانی عوام کو ذمہ داری اٹھانا ہو گی، عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 01.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی عوام کو ذمہ داری اٹھانا ہو گی، عمران خان

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی التجا کر رہی ہے۔ پاکستان کو کورونا وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہے اور یہ کہ وہ ملک کو بند نہیں کر سکتے۔

اسلام آباد میں کورونا وائرس سے متعلق حکومتی پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی حکومت ایک مشکل فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ کچھ شعبوں کے علاوہ ملک کے تمام شعبوں کو کھول دیا جائے گا۔ عمران خان نے کہا ،''کورونا  وائرس پھیلے گا، ہماری اموات بھی بڑھیں گی، ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہو گا۔ عوام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور سماجی فاصلے پر عمل درآمد کریں۔''

 عمران خان نے کہا کہ  وہ چاہتے تھے کہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکا جائے تاکہ ہسپتالوں پر بوجھ نہ پڑے لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھنا تھا کہ دیہاڑی دار مزدور متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا،''امیر بڑے گھروں میں تو آرام سے رہ رہے تھے لیکن کچی آبادی والے افراد پر لاک ڈاؤن کا اثر ہوا۔ پاکستان میں پانچ کروڑ افراد دو وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے۔ میں بطور وزیر اعظم وہ لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا جو پاکستان میں لگایا گیا،  اس نے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچائی ہے، میرے بس میں ہوتا تو میں کاروبار نہ روکتا۔''

 عمران خان نے طبی عملے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،''پہلے دن سے مجھے آپ کی فکر تھی، ڈاکٹروں اور نرسوں پر بہت دباؤ تھا۔ ہمارے ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ ان پر دباؤ پڑے گا۔ ہمیں احساس ہےکہ ہمیں آپ کی مدد کرنی ہے لیکن آپ کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ پاکستان میں تیرہ سے پندرہ کروڑ افراد لاک ڈاؤن سے مالی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔''

عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت پر اثر پڑا ہے۔ پاکستان کی ٹیکس وصولی تیس فیصد گر گئی ہے، سرمایہ کاری کم ہو گئی۔'' یہ فیصلہ بہت مشکل سے کیا ہے لیکن اب کچھ شعبوں کو چھوڑ کر ملک کھول دیا جائے گا تاکہ اقتصادی سرگرمی واپس آئے۔''

عمران خان نے کہا کہ ایک پروگرام مرتب کیا جا رہا ہے جس کے تحت عوام کو بتایا جائے گا کہ کس ہسپتال میں وینٹیلیٹرز میسر ہیں اور کہاں نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں قریب تین ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور اسی دوران ساٹھ افراد کووڈ انیس مرض کے باعث ہلاک ہو گئے۔ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی کل تعداد 73،868 ہو گئی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد اٹھائیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر سینیٹر مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں دس سال سے کم عمر قریب نو سو بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا تھا،''گزشتہ چوبیس گھنٹے میں سندھ میں چار ہزار ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 880 ٹیسٹ مثبت آئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ متاثرہ افراد کی شرح کتنی زیادہ ہے۔ لوگوں سے التجا ہے کہ وہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے کی پابندی کریں۔''

سندھ کے بعد پاکستان کا سب سے متاثرہ صوبہ پنجاب ہے، جہاں چھبیس ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔