پاکستانی عدالت نے ذہنی مریض کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا | حالات حاضرہ | DW | 12.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی عدالت نے ذہنی مریض کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے ایک ذہنی مریض کو اپنے ایک ساتھی پولیس اہلکار کے قتل کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ عدالت نے اب اس مجرم کی ذہنی صحت سے متعلق ایک نئی میڈیکل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Symbolbild Todesstrafe Galgen (picture-alliance/dpa/R. Weihrauch)

مجرم خضر حیات کو سزائے موت دیے جانے میں چند ہی روز باقی رہ گئے تھے

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات بارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ذہنی طور پر بیمار اس مجرم کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد روک دینے کا حکم آج سب سے زیادہ آبادی والے پاکستانی صوبے پنجاب کے دارالحکومت میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے دیا۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ترجمان وسیم وحید نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جس 55 سالہ سابق پولیس افسر کو سنائی گئی سزائے موت روک دی گئی ہے، اس کا نام خضر حیات ہے اور اسے سزائے موت دیے جانے میں چند ہی روز باقی رہ گئے تھے۔

’نفسیاتی مریض‘ کوپھانسی دی جا سکتی ہے، پاکستانی سپریم کورٹ

پاکستان: ذہنی مریض کی سزائے موت کو روک دیا گیا

’نہیں، آپ مر چکے ہیں،‘ چینی پولیس کا زندہ شہری کو کڑوا جواب

خضر حیات کے خلاف یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ اس نے 2003ء میں زمین کے ایک تنازعے کی وجہ سے اپنے ایک ساتھی پولیس افسر کو قتل کر دیا تھا۔ عدالت نے اس سزا یافتہ مجرم کی ذہنی صحت سے متعلق جو نئی طبی رپورٹ طلب کی ہے، وہ 30 جنوری تک لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانا ہے۔

خضر حیات کے بارے میں گزشتہ برس جولائی میں عدالت کی طرف سے قائم کردہ ایک میڈیکل بورڈ نے یہ رپورٹ دی تھی کہ مجرم ایک ذہنی مریض ہے۔ اس حوالے سے مجرم کی والدہ اقبال بانو نے، جو آج کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھیں، بعد ازاں صدر پاکستان ممنون حسین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو معاف کر دیں۔

اقبال بانو نے کہا، ’’میں اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے جیل جاتی ہوں، اسے کچھ علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ متوازن ذہنی حالت کا مالک نہیں ہے۔‘‘ اقبال بانو نے نیوز ایجنسی اے پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’میرے بیٹے کو طبی علاج کی ضرورت ہے، نہ کہ پھانسی دیے جانے کی۔‘‘

Pakistan Imdad Al (Picture-Alliance/AP Photo/A. Ali)

سزا یافتہ ذہنی مریض امداد علی کی اہلیہ اپنے شوہر کی تصویر کے ساتھ، جس کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد گزشتہ برس پاکستانی سپریم کورٹ نے روک دیا تھا

قبل ازیں پاکستانی سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ برس امداد علی نامی ایک ایسے سزا یافتہ مجرم کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا، جس کے بارے میں طبی طور پر ثابت ہو گیا تھا کہ وہ شیزوفرینیا کا مریض ہے۔

یہ مجرم ابھی تک جیل میں ہے اور انسانی حقوق کی متعدد پاکستانی اور غیر ملکی تنظیموں نے اس کے بارے میں بھی اپیل کی ہے کہ امداد علی کو اس کی ذہنی حالت کے پیش نظر معاف کر دیا جائے۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان نامی گروپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ خضر حیات کو، جو ایک ذہنی مریض ہے، سزائے موت دے دینا ایک ’غیر قانونی اور غیر انسانی‘ اقدام ہو گا۔

پاکستان میں مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کئی سالوں تک معطل رہا تھا لیکن پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے طالبان کے دہشت گردانہ حملے کے بعد مجرموں کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بحال کر دیا گیا تھا۔

2014ء سے اب تک پاکستان میں 427 قیدیوں کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

DW.COM

اشتہار