پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی | حالات حاضرہ | DW | 26.09.2013

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی

پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی بحرانی صورت اختیار کرگئی ہے۔ ماہرین آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ سرکاری حکام نے صورت حال میں عارضی طور پر بہتری لانے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

جمعرات کے روز جب کرنسی مارکیٹوں میں کاروبار کاآغاز ہوا تو امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ویلیو 109.50 تھی۔ چند ہی گھنٹوں میں روپے کی ویلیو مزید گر گئی اور روپیہ 111 میں ٹریڈ ہونے لگا۔ یہ صورت حال صرف اوپن مارکیٹ تک ہی محدود نہ تھی کیونکہ پاکستانی روپے کا ڈالر کے مقابلے میں انٹربنک ریٹ بھی ایک وقت میں 110 روپے تک جا پہنچا۔ اس صورت حال نے لوگوں میں بے چینی پیدا کردی اور لوگ بڑی تعداد میں ڈالر خریدنے لگے۔ سرکاری حکام کی فوری مداخلت پر انٹر بینک ریٹ تو 106 روپے تک آ گیا لیکن بیشتر کرنسی ڈیلروں نے ڈالر بیچنے بند کردیے۔ بعض ماہرین کے مطابق ڈالر کی اسمگلنگ اور حج کے باعث ڈیمانڈ میں اضافے سے پاکستانی کرنسی روپیہ کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

پاکستان کے سابق نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کے روپے کا بحران آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے حالیہ معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔ آئی ایم ایف نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کا پابند کیا ہے۔ اس طرح ڈالر خریدنے سے پاکستان کی چھوٹی سی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے اور روپے کی قدر کم ہو رہی ہے۔ ان کے بقول روپے کی قیمت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف سے کم از کم دس ارب ڈالر لیے جانے چاہیں تھے،جو پیسے لیے گئے ان میں سے کافی سارے پرانے قرضوں کی ری شیڈولنگ میں استعمال ہو گئے۔

Basar in Karachi Pakistan

ماہرین آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں

ڈاکٹر سلمان شاہ کے بقول اقتصادی حکام کی صورتحال میں بہتری لانے کی حالیہ کوششیں عارضی نوعیت کی ہیں، روپے کی قدر کے استحکام کے لیے بیرونی ترسیلات میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری کا فوری طور پر آنا اور توانائی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول اس بحران کے حل کے لیے حکومت کسی دوست ملک سے مدد لینے کے علاوہ، طویل مدت کے بانڈز کے اجرا سے بھی مدد لے سکتی ہے۔

ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر فاروق افتخار نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی سے کاروباری طبقے کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے، اس سے مہنگائی بڑھے گی اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ اس طرح پاکستانی مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور وہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو بیٹھیں گی۔ ایگری فورم پاکستان کے سربراہ ابراہیم مغل نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں روپے کی قدر دس روپے کمی ہوئی ہے۔ اس سے پاکستان کو ایک ہزار ارب روپےسے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ روپےکی قدرمیں کمی سے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔اور پاکستان کے 42 ارب ڈالر کےدرآمدی بل کے لیے 420 ارب روپے اب زیادہ خرچ کرنا ہوں گے۔

رپورٹ: تنویر: شہزاد، لاہور

ادارت: عابد حسین