پاکستانی خواتین کو پیڈز مہیا کرنے کی کوشش | وجود زن | DW | 15.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

پاکستانی خواتین کو پیڈز مہیا کرنے کی کوشش

حاجرہ بی بی سلائی مشین سے خواتین کے پیڈز کی سلائی کرتی ہیں۔ پاکستان کے شمال میں پہاڑوں پر واقع ان کے گاؤں کی خواتین کو حیض کے دوران پیڈز کی سہولت میسر نہیں۔

افغان سرحد کے قریب بونی گاؤں کی رہائشی حاجرہ خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے،''میں ایک مسئلہ حل کرنا چاہتی ہوں۔‘‘یہاں کی خواتین کو معلوم نہیں تھا کہ سینیٹری پیڈز کیا ہوتے ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی زیادہ تر تعداد کپڑے کا استعمال کرتی ہے۔ ماہواری سے متعلق کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے بہت سی پاکستانی خواتین ان دنوں میں صفائی ستھرائی اور باقاعدگی سے کپڑے کی تبدیلی کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں۔

پاکستان کے کئی دیہی علاقوں میں حیض کے دوران خواتین کو ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ حاجرہ بی بی کو آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے مقامی خواتین کے لیے سینیٹری پیڈز بنانے کا کام دیا گیا ہے۔ حاجرہ کی باقاعدہ تربیت کی گئی اور اسے سکھایا گیا کہ کسیے روئی، پلاسٹک اور کپڑے سے پیڈز بنانا ہیں۔ حاجرہ اس کام سے اپنے گھر کے اخراجات بھی اٹھانے کے قابل ہو گئی ہے۔ ہر پیڈ کو بنانے میں بیس منٹ لگتے ہیں اور اسے بیس روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔ حاجرہ کا کہنا ہے،''پہلے لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ میں یہ کیوں کر رہی ہوں۔ کچھ تو مجھے شرمندہ کر دیتے تھے۔لیکن اب گاؤں کی لڑکیاں ماہواری کے بارے میں بات کر پا رہی ہیں۔ میں بیماریوں کے خلاف کام کر رہی ہوں۔‘‘

پسماندہ پاکستانی علاقوں میں ماہواری سے آگہی بڑھتی ہوئی

بنگلہ دیشی حکومت بچیوں کو مفت سینیٹری پیڈز فراہم کرے گی

ماضی میں بونی کی خواتین شرم کے باعث ماہواری میں استعمال ہونے والے کپڑوں کو سکھا نہیں پاتی تھیں۔ گیلے کپڑے پر جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کی قریب نصف بچیوں کو ماہواری کا آغاز ہونے سے قبل اس قدرتی جسمانی عمل کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک مقامی استانی کا کہنا ہے، ‘‘ہمیں نوجوان بچیوں نے کہا کہ انہیں ماہواری کے بعد شک ہوا کہ کہیں انہیں سرطان تو نہیں یا کوئی خطرباک بیماری تو نہیں ہوگئی۔‘‘

ضلع چترال میں پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر محمد حیدر المک کا کہنا ہے کہ مسئلہ اب قابو میں ہے۔'' کچھ جگہ ابھی ضرورت ہے لیکن ہم کام کر رہے ہیں۔ سیکنڑوں ہیلتھ ورکز ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی مدد کر رہی ہیں۔‘‘

شہروں میں حالات مختلف ہیں۔ لیکن پھر بھی خواتین کو پیڈز جیسی سہولیات تک رسائی اتنی عام نہیں ہے۔ کراچی میں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین پیڈز نہیں خرید پاتیں۔ اس کے علاوہ  شرمندگی کے باعث بہت سی خواتین اپنے شوہروں کو پیڈز خریدنے کا کہتی ہیں۔ سجاد علی نامی دکاندار کا کہنا ہے،''کچھ لوگ پیڈز کو رات کو خریدتے ہیں اور کچھ کسی دوسرے محلے میں جا کر انہیں خریدتے ہیں۔‘‘

پاکستان کے صوبہ سندھ میں اب اسکولوں میں بچیوں کو ماہواری کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ان لڑکیوں کو اسکولوں میں رکھنا ہے جو ماہواری کے بعد اسکول چھوڑ دیتی ہیں۔ یونیسیف کے مطابق 2017ء کے ایک سروے سے پتا چلا کہ اٹھائیس فیصد خواتین ایسی تھیں جو ماہواری کے باعث اسکول یا دفتر سے چھٹی کرتی تھیں۔ حاجرہ بی بی، جو اسی دیگر خواتین کے ساتھ پیڈز بناتی ہے، کو امید ہے کہ بونی میں حالات تبدیل ہوجائیں گے۔

ب ج، ش ح (نیوز ایجنسی)

DW.COM