پاکستانی حکومت کوٹوئٹر سے کیا شکایت ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 20.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی حکومت کوٹوئٹر سے کیا شکایت ہے؟

ٹوئٹر سے پاکستانی حکومت کو ماضی میں شکایت رہی ہے کہ وہ 'ریاست مخالف‘ سمجھے جانے والے پاکستانی اکاؤنٹ معطل کیوں نہیں کرتا۔ لیکن اب شکایت یہ سامنے آئی ہے کہ ٹوئٹر نے کشمیر پر بھارت مخالف کئی اکاؤنٹس کیوں بند کر دیے؟

پاکستان میں انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے ایک ٹوئیٹ میں کہا،’’ ایک اور پاکستانی صارف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا کیوں کہ وہ کشمیر اور مودی کے جارحانہ اقدامات کے خلاف ٹوئیٹ کر رہا تھا۔ کیا اب ٹوئٹر بھارتی حکومت کے لیے کام کر رہا ہے ؟‘‘۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئیٹ میں کہا،''پاکستانی حکام نے ٹوئٹر اور فیس بک کے ساتھ کشمیر کی حمایت میں لکھنے والے پاکستانی اکاؤنٹس کی بندش کا معاملے اٹھایا ہے۔ اس کی اصل وجہ ٹوئٹر کے علاقائی ہیڈ کوارٹر میں موجود بھارتی عملہ  ہے۔‘‘

ماضی میں خود پاکستان کی حکومت پر الزام رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بند کرانے کی کوششوں میں ملوث رہی ہے۔ اس سال اپریل میں  فیس بک جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹ نے آئی ایس پی آر سے منسلک سو سے زائد  فیس بک پیجز اور اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ یہ اکاؤنٹس مبینہ طور پر سیاسی پروپیگینڈے اور فوج کی حمایت کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

ڈیجیٹل رائٹس کی کارکن نگہت داد  کہتی ہیں، ’’اکاؤنٹس بند کرنے کے حوالے سے ٹوئٹر کی عالمی پالیسی ہے،  جیسا کہ تشد پر اکسانے والی ٹوئٹس، انتہا پسندی کو فروغ دینے، بچوں کے ساتھ زیادتی، اور نفرت آمیز مواد پر مبنی ٹوئٹس کرنے والے اکاؤنٹس کو بند کر دیا جاتا ہے۔ ‘‘

 نگہت نے مزید کہا کہ،'ٹوئٹر خواتین پر تشدد یا ان کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق ٹوئٹس کرنے والے اکاؤنٹس کو آسانی سے بند نہیں کرتا لیکن کشمیر کے معاملے میں ٹوئٹر نے نہ صرف اب بلکہ ماضی میں بھی جلد متحرک ہو گیا۔‘‘

تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے نگہت کا کہنا تھا کہ ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب بہت زیادہ تعداد میں لوگ کچھ اکاؤنٹس کو رپورٹ کرتے ہیں تو ٹوئٹر کے ایلگورتمس کے تحت وہ اکاؤنٹ عارضی طور پر بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن نگہت کہتی ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر ٹوئٹر کو دیکھنا چاہیے کہ وہاں میڈیا بلیک آؤٹ ہے، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند ہیں اور محصور کشمیریوں کی آواز دوسرے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتی ہیں کہ اخلاقی طور پر ٹوئٹر پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ  صرف قوانین نہ دیکھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔

ٹوئٹر کا دعویٰ ہے کہ تنازعہ کشمیر کا ہو یا کوئی اور معاملہ، وہ غیر جانبدار  ہے ۔ لیکن  پاکستان میں صحافتی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کی سربراہ صدف خان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’بدقسمتی سے ریاستیں اور بڑی کمپنیاں مل کر تنقید کرنے والوں کو دباتی ہیں اور جب دو ملکوں کا ٹکراؤ ہو تو کمپنیاں بڑے اور طاقت ور ملک کا ساتھ دیتی ہیں۔‘‘

صدف کہتی ہیں کہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ سوشل میڈیا سائٹس کام کیسے کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارتی ریاست کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے رہنماؤں کی حمایت میں ٹوئٹس کرنے والے اکاؤنٹس کو جلد بند کر دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ  یہ ہے کہ ٹوئٹر جن ممالک میں کام کر رہا ہے وہ وہاں کی ریاستی پالیسیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

ان کی نظر میں اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے شفافیت کا مطالبہ جاری رکھا جائے۔