پاکستانی جہادی تنظیم پر پابندی: اسلام آباد کتنا سنجیدہ ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی جہادی تنظیم پر پابندی: اسلام آباد کتنا سنجیدہ ہے؟

پاکستانی حکومت نے ایک بار پھر جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ کئی ناقدین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آیا اس مرتبہ اس پابندی کے احترام کو سختی سے یقینی بھی بنایا جائے گا۔

ممنوعہ پاکستانی فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید

ممنوعہ پاکستانی فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید

دوسری طرف جماعت الدعوہ نے اپنے اور اپنے فلاحی ادارے پر اس پابندی کو مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد حکومت نے کل جمعرات اکیس فروری کو جماعت الدعوہ اور اس کی فلاحی شاخ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر ایک بار پھر پابندی لگا دی تھی۔ اس سے قبل ماضی میں عائد کردہ ایسی ہی پابندی کی مدت پوری ہو گئی تھی۔

جماعت الدعوہ کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے ایک تحریری سوال کے جواب میں جمعہ بائیس فروری کو ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پہلے بھی بھارت کے دباؤ پر ہم پر پابندی لگائی گئی تھی اور اب پھر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پہلے بھی ہم نے عدالتوں سے رجوع کیا تھا اور ہم اب بھی عدالتوں ہی میں جائیں گے۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گزشتہ ہفتے کے خود کش کار بم حملے کے بعد سے پاکستان کو دہشت گردی کے مسئلے کے حوالے سے بہت دباؤ کا سامنا ہے۔ اس حملے کی مذمت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ کئی تمام اہم بین الاقوامی تنظیموں اور سرکردہ شخصیات نے بھی کی تھی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس دباؤ ہی کی وجہ سے اب ان دونوں تنظیموں پر پابندی لگائی گئی ہے۔

Indien Pulwama - Anschlag auf Bus an der Autobahn Srinagar-Jammu

پلوامہ حملے میں بھارت کے پینتالیس نیم فوجی اہلکار مارے گئے تھے

ماضی میں کیا ہوا؟

پاکستان کے معروف صحافی اور ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکیٹو ایڈیٹر ضیاالدین کے خیال میں اس سارے دباؤ کے باوجود پاکستان اپنے ہاں جہادی تنظیموں کو لگام ڈالنے میں مخلص نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جیش محمد اور لشکر طیبہ نے پاکستان کی آئی ایس آئی اور آرمی کے لیے کام کیا ہے۔ سابق صدر زرداری کے دور میں قومی سلامتی کے مشیر نے کہا تھا کہ حکومت کے پاس لشکر طیبیہ کے خلاف تمام شواہد موجود ہیں لیکن یہ کہ ان کے خلاف کارروائی طاقتور حلقوں کی وجہ سے نہیں کی جا سکتی۔ پھر بجائے اس کے کہ ان جہادی تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی، تب قومی سلامتی کے مشیر کو ہی فارغ کر دیا گیا تھا۔‘‘

پاکستان نے ماضی میں بھی اپنے ہاں جہادی اور فرقہ ورانہ تنظیموں پر پابندیاں لگائی تھیں لیکن اس کے بعد ان تنظیموں نے اپنے نام بدل بدل کر دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ اگر حکومت اس عمل میں واقعی مخلص ہے، تو پھر ایسی تنظیموں پر بھرپور پابندی لگائے۔

’ممکنہ جنگ کی وجہ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف سخت کارروائیوں کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے اقدامات خطے میں ایک جوہری جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ان عناصر کی وجہ سے خطے کے دونوں ممالک میں کئی مواقع پر کشیدگی ہوئی۔ اور ایک مرتبہ تو دونوں جنگ کے بہت ہی قریب تھے۔ لہٰذا حکومت کو ان پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ دوبارہ اپنے نام بدل بدل کر کام شروع نہ کریں۔ اس کے علاوہ ان تنظیموں کے ترجمان بنے ہوئے جہادی اخبارات اور دیگر مطبوعات کے خلاف بھی کریک ڈاؤن ہونا چاہیے۔‘‘ ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم تو کرتے ہیں لیکن انہیں یہ امید نہیں کہ اس پابندی پر عمل درآمد بھی ہو گا۔

مودی کے اقدامات

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار طاہر مجید بھی ڈاکٹر توقیر گیلانی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’پہلے بھی پابندی لگی تھی لیکن اس کے باوجود کشمیرمیں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رہیں۔ اصل مسئلہ پاکستان کی ریاستی پالیسی بدلنے کا ہے۔ لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی کہوں گا کہ بھارتی حکومت کے اقدامات بھی کشمیریوں کو عسکریت پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کی کوشش نے بھی کشمیریوں کو بھارت سے بدظن کیا ہے۔‘‘


’اس مرتبہ حکومت اور اداروں کا موقف ایک‘

پاکستان میں کئی ناقدین کا خیال ہے کہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی پالیسی کشمیر اور خارجہ سطح پر کئی دیگر امور کے حوالے سے اختلافات کا شکار رہی ہے۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ سویلین حکومتوں نے جہادی تنظیموں کو قابو کرنے کی کوشش کی اور بھارت سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کاوشیں بھی کیں، لیکن جی ایچ کیو (پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز) ان معاملات میں ہمیشہ رکاوٹ بنا اور اب بھی ملک کی طاقتور فوج ہی ان معاملات میں رکاوٹ بنے گی ۔

تاہم پاکستان میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی کا دعویٰ ہے کہ حکومت اس مرتبہ ان تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ماضی میں ادارے اور حکومتیں ایک ہی صفحے پر نہیں ہوتے تھے۔ ان تنظیموں کے حوالے سے حکومت کا موقف مختلف ہوتا تھا اور خفیہ ایجنسیوں کا زاویہ نگاہ مختلف۔ لیکن اب اداروں اور حکومت دونوں کو ادراک ہو چکا ہے کہ ان تنظیموں کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی طور پر مشکلات کا شکار ہورہا ہے۔ لہٰذا حکومت پوری سنجیدگی سے اس دوبارہ پابندی پر عمل درآمد کرائے گی اور ان تنظیموں سے سختی سے نمٹے گی۔‘‘

DW.COM