1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Libyen Küstenwache
(علامتی تصویر)تصویر: picture alliance/AP Photo/M. Ben Khalifa

پاکستانی بحریہ نے غرقاب بھارتی جہاز کے عملے کو بچا لیا

12 اگست 2022

'جمنا ساگر' نامی بھارتی جہاز منگل کے روز بلوچستان میں گوادر کے قریب بحیرہ عرب میں ڈوب گیا۔ تاہم پاکستانی بحریہ نے بیلجیئم کے ایک ٹینکر کی مدد سے بھارتی جہاز کے عملے کے دس میں سے نو اراکین کو بچا لیا۔

https://p.dw.com/p/4FRFs

پاکستانی بحریہ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "پاک بحریہ کو بھارتی جہاز جمنا ساگر کی طرف سے 'خطرے میں گھرے' ہونے کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد جہاز ڈوب گیا۔ پاک نیوی نے اس پر فوراً قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے ذریعہ قریب موجود بیلجیئم کے ایک ٹینکر ایم ٹی کروبیک سے درخواست کی کہ جہاز میں پھنسے عملے کوضروری مدد فراہم کریں۔"

پاک بحریہ نے مزید بتایا کہ "ٹینکر نے بھارتی جہاز کے عملے کے نو اراکین کو بچالیا اور اگلی بندرگاہ دبئی تک اپنا سفر جاری رکھا جہاں بھارتی جہاز کے عملے کو اتار دیا گیا۔"

بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی نیوی کے دو ہیلی کاپٹربھی جائے واقعہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے علاقے کی تلاشی کے بعد بھارتی جہاز کے عملے کے ایک رکن کی لاش کا پتہ لگالیا، جو ڈوبتے وقت لاپتہ ہوگیا تھا۔ لاش کو سمندر سے نکال کر پاکستانی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ مزید ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔

بھارتی جہاز کے غرقاب ہونے کی وجہ فوری طور پرمعلوم نہیں ہوسکی ہے۔ حالانکہ بتایا جاتا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت موسم اچھا تھا اور سمندر کی لہریں بھی معمول پر تھیں۔

Indien Navy U-Boot
​​(علامتی تصویر)تصویر: Vietnam News Agency/AFP/Getty Images

سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزامات

رواں سال کے اوائل میں پاکستانی بحریہ نے ایک بھارتی آبدوز کا سراغ لگانے کے بعد اسے روک دیا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی بحریہ نے پاکستان کے خلاف "مذموم ارادوں" کے ساتھ اپنی آبدوز تعینات کی۔ لیکن پاک بحریہ کے اینٹی سب میرین یونٹ نے یکم مارچ کو جدید ترین 'کلوری کلاس بھارتی آبدوز' کو ٹریک کیا اور روک دیا۔

آئی ایس پی آر نے آبدوز کی ویڈیو فوٹیج شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ گزشہ پانچ سال کے دوران پیش آنے والا چوتھا واقعہ ہے  اور اس طرح کی کوششوں کو ناکام بنانا پاکستانی بحریہ کی صلاحیت اور پاکستان کی سمندری سرحدوں کے دفاع کے عزم کا مظہر ہے۔

دوسری طرف بھارت نے بھی حال ہی میں پاکستانی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو گجرات کے ساحل کے قریب اپنے سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

بھارتی حکام نے بتایا تھا کہ پاکستانی بحریہ کا جہاز عالمگیر جیسے ہی بھارتی آبی حدود میں داخل ہوا، بھارتی کوسٹ گارڈ کی میری ٹائم سرویلانس ڈرونز نے اس کا پتہ لگالیا۔ اور بھارتی کوسٹ گارڈ کے اہلکار چوکنا ہوگئے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستانی جنگی جہاز کو اپنے علاقے میں واپس لوٹ جانے کے لیے کہا گیا اور بھارتی کوسٹ گارڈ کی چوکسی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی بحریہ کا جہاز اپنے علاقے میں لوٹ گیا۔

 ج ا/ ص ز (اے پی، ایجنسیاں)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

’تین مجرم‘ مجھے پھر نشانہ بنانے کی تاک میں ہیں، عمران خان

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں