ٹیکساس کا طوفان ’ویک اپ کال‘ تھی، وائٹ ہاؤس کی مشیر | سائنس اور ماحول | DW | 27.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ٹیکساس کا طوفان ’ویک اپ کال‘ تھی، وائٹ ہاؤس کی مشیر

جینا میکارتھی اس وقت وائٹ ہاؤس میں شعبہ کلائمیٹ چینج سے منسلک ہیں۔ انہیں صدر جو بائیڈن نے اپنا نیشنل کلائمیٹ ایڈوائزر مقرر کیا ہے۔

امریکی صدر  جو بائیڈن کی ماحولیاتی تبدیلیوں کی قومی مشیر جینا میکارتھی نے امریکی ریاست ٹیکساس اور دیگر ریاستوں میں حال ہی میں آنے والے برفانی طوفان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے عوام الناس اور  حکومت کے لیے ایک تنبیہ اور جاگ جانے کا پیغام قرار دیا ہے۔

اس برفانی طوفان کے بعد ایسی آوازوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے کہ امریکا کو ایک ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو طوفانی موسموں کو برداشت کر سکے۔

جرمنی میں شدید برفباری، ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر

برفانی طوفان معمول کے مطابق نہیں

جینا میکارتھی نے امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹد پریس کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ لوگ ٹیکساس اور دوسری ریاستوں میں آنے والے حالیہ طوفان کو بظاہر معمول کا موسمی عمل سمجھ رہے ہیں لیکن یہ ایسا نہیں ہے۔

Historischer Wintersturm in den USA: Polarwirbel trifft Nordamerika

امریکی ریاست ٹیکساس کے وسیع علاقے پر برف ہی برف نظر آتی تھی

امریکی ماہر ماحولیات کا کہنا ہے ریاست ٹیکساس میں آنے والا سنگین طوفان حقیقت میں موسمی تغیر اور تبدیل ہوتے موسم کا شاخسانہ تھا۔

میکارتھی نے لوگوں کو متنبہ کیا کہ وہ مستقبل میں ایسے شدید طوفانوں کی زیادہ آمد سے خبردار رہیں اور ان کی شدت کو برداشت کرنے کے لیے حکومت اور لوگوں کو مِل جُل کر اپنی توانائیاں ایک بہتر ماحول کے حصول پر خرچ کرنی ہوں گی۔

پولینڈ سے ترکی تک، برف کی چادر تن گئی

بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت

جینا میکارتھی نے لوگوں سے کہا کہ اگر وہ اپنے بچوں کو ایک صحت مندانہ ماحول دینا چاہتے ہیں تا کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل کسی حد تک محفوظ ہو گیا ہے تو انہیں ہمت سے بنیادی ڈھانچے یا انفراسٹرکچر کو تبدیل کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے نئی اور توانا تبدیلیوں کی اہمیت پر بھی انہوں نے فوکس کیا۔

USA | Winterwetter in Texas

وسطِ فروری میں ریاست ٹیکساس کو زوردار برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑا تھا

جینا میکارتھی کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں شائع کیا گیا ہے جب صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے ریاست ٹیکساس کے متاثرہ علاقوں کا دورہ مکمل کیا ہے۔ میکارتھی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ برفانی طوفان کی آمد کو نظرانداز مت کریں اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی فوکس کریں۔

برفانی طوفان سے ہونے والا نقصان

ٹیکساس اور دوسری ریاستوں میں آنے والے شدید نوعیت کے برفانی طوفان سے بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ کم از کم چالیس افراد برف، سردی اور بجلی منقطع ہونے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ بے شمار افراد یخ بستہ مکانوں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ کئی عمارتوں اور مکانات کو گہرے نقصانات کا سامنا رہا۔

ٹیکساس کے دورے پر صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت لوگوں کو یہ امید دینا چاہتی ہے کہ ان کے بہتر مستقبل کو ایک نئے انداز میں تعمیر کیا جائے گا۔ امریکی صدر پہلے ہی قریب دو ٹریلین ڈالر سے ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر کو تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

USA | Winterwetter in Texas

ٹیکساس سمیت کئی دوسری ریاستوں کو شدید برف باری کا سامنا رہا تھا

مزید طوفان آئیں گے

جینا میکارتھی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ حالیہ طوفان بس یہی نہیں تھا بلکہ یہ سنگین اور خطرناک طوفانوں کے سلسلے کی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی شواہد موجود ہیں اور وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے خطرناک طوفان مستقبل میں معمول کے مطابق آتے رہیں گے اور ہر ایک کی معاشرتی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حالت بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اور دوسروں کا خیال رکھے۔

برفانی طوفان سے اسپین میں افراتفری، تین افراد ہلاک

میکارتھی کہ مطابق مستقبل میں برفانی طوفان سے پیدا ہونے والے بحران سے بچا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ماحول دوستی کو اپنانا ہو گا۔ صدر جو بائیڈن کئی ماحول دوست اقدامات کو ترجیحی بنیاد پر متعارف کرانے کی پلاننگ کیے ہوئے ہیں۔

ع ح، ع ت (اے پی)