1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

ٹرمپ کے قتل کی سازش، عدالت میں ایک پاکستانی مجرم قرار

عاطف بلوچ اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | افسر اعوان
7 مارچ 2026

آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی خاطر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم امریکی شخصیات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

https://p.dw.com/p/59z8U
USA New York 2024 | Asif Merchant, angeklagt wegen iranischer Verschwörung zur Ermordung von Donald Trump
آصف رضا مرچنٹ پر جرم ثابت ہوا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ میں بھرتیوں کی کوشش کر رہے تھے، فائل فوٹوتصویر: Department of Justice/REUTERS

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ پاکستانی شہری آصف رضا مرچنٹ کو جمعہ کے روز مجرم قرار دے دیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دو سال قبل ایران کی ہدایت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم امریکی سیاست دانوں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

سن 2020 میں ایک امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی خاطر مرچنٹ کو بھرتی کیا گیا تھا۔ سلیمانی کی ہلاکت کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی مدت کے دوران امریکی صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مرچنٹ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ میں بھرتیوں کی کوشش کر رہے تھے۔

فیڈرل استغاثہ کے مطابق سن 2024 کی اس منصوبہ بندی میں اُس وقت کے صدر جو بائیڈن اور نکی ہیلی بھی ممکنہ اہداف میں شامل تھے۔ نکی ہیلی اُس سال ری پبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف صف آرا تھیں۔

قاسم سلیمانی
سن 2020 میں ایک امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا تھا، فائل فوٹوتصویر: Majid Asgaripour/REUTERS

محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ مرچنٹ کو ایران کی ہدایات پر ''پیسوں کے عوض قتل کرنے اور سرحد پار دہشت گردی کی کارروائی کی کوشش‘‘ کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔

نیویارک کے علاقے بروکلین میں مقدمے کی سماعت گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔ مرچنٹ نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کی ایلیٹ فورس اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ساتھ اس منصوبے میں شامل ہوئے تاہم ان کے بقول وہ مجبور تھے کیونکہ ان کا خاندان تہران میں تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی سلامتی چاہتے تھے۔

آصف مرچنٹ کا کیا کہنا تھا؟

آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی خاص شخص کو قتل کرنے کا براہ راست حکم نہیں ملا تھا لیکن تہران میں بات چیت کے دوران اُن کے ایرانی رابطہ کار نے تین افراد کے نام ضرور لیے تھے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کو ہی ناکام بنا دیا تھا۔ محکمہ انصاف کے مطابق مرچنٹ نے اپریل 2024 میں جس شخص سے مدد مانگی، اُس نے یہ سرگرمی رپورٹ کر دی اور بعد میں مخبر بن گیا۔ مرچنٹ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اُس نے اسی سال بے قصور ہونے کی درخواست دی تھی۔

ایران نے ٹرمپ یا کسی دیگر امریکی اہلکار کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں سے کچھ دن قبل ہی آصف مرچنٹ کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گزشتہ ہفتے سے جاری امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران بھر میں کم از کم 1,332 ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ 

ایران بھی اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی ممالک میں حملے کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک تنصیب پر حملے میں اس کے چھ فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کم از کم دس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟