ٹرانسپیرنسی کا نیا کرپشن انڈکس: حکومت کے خلاف تنقید کا طوفان | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹرانسپیرنسی کا نیا کرپشن انڈکس: حکومت کے خلاف تنقید کا طوفان

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی نئی کرپشن انڈکس رپورٹ کے اجراء کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تنقید کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے۔ پاکستان ایک سو اسی ممالک میں ایک سو چالیس ویں نمبر پر ہے۔

بدعنوانی کے خلاف عالمی سطح پر جدوجہد کرنے والی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے منگل 25 جنوری کو اس کا سال 2021ء کے لیے گلوبل کرپشن انڈکس ایک ایسے وقت پر جاری کیا گیا، جب پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری اور اپوزیشن کی تحریک سمیت کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

استعفے اور داخلی ٹوٹ پھوٹ

پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں ان دنوں ٹوٹ پھوٹ کی خبریں گرم ہیں جبکہ اس جماعت کے اتحادی بھی اسے مختلف معاملات پر آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ چند روز پہلے وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین اختلافات کی خبریں بھی گردش میں تھیں۔ پھر قومی اسمبلی کے رکن نورعالم خان نے اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور بعد میں پی ٹی آئی میں ان کے دیرینہ ساتھی احمد جواد نے بھی پارٹی پر تنقید کے نشتر چلائے، جن پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔

ٹرانسپیرنسی کا کرپشن انڈکس: جرمنی کو ابھی کافی کام کرنا ہے

اسی دوران وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر نے بھی کل پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سے ملک کے کئی حلقوں میں یہ خبریں گرم ہیں کہ پارٹی میں داخلی  اختلافات عروج پر ہیں۔

عمران خان کے لیے دھچکا

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ کرپشن کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی کا انڈکس پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے کیونکہ اس پارٹی نے بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اعلان کر کے ہی سیاست میں حصہ لیا اور عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

Infografik Corruption Perceptions Index 2021 Top 25 EN (SPERRFRIST 26.01.!!)

عمران خان سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو کرپٹ سیاست دانوں کا ٹولہ قرار دیتے رہے ہیں اور ماضی میں ان پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔

’کراچی افیئر‘ کرپشن کیس میں سابق فرانسیسی وزیر اعظم بری

اس رپورٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے جہاں پی ٹی آئی کے حامی اس رپورٹ کے خلاف بول رہے ہیں اور کئی ناقدین اسی انڈکس کا حوالہ دے کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ پاکستان کے معروف صحافیوں سلیم صافی اور طلعت حسین سمیت کئی سرکردہ شخصیات سوشل میڈیا پر حکومت پر سخت تنقید کر رہی ہیں جبکہ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت میں کرپشن کوئی انہونی بات نہیں اور یہی کرپشن تو دوسری حکومتوں میں بھی ہوتی رہی ہے۔ مثال کے طور معروف صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا پر جب تنقید ہوئی کہ انہوں نے تو ماضی میں پی ٹی آئی کی حمایت کی تھی، تو انہوں نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے پچھلے ادوار میں کرپشن کا بھی تذکرہ کیا۔

انہوں نے لکھا، ''تو کیا شریف برادران نے ملک کو جنت بنا رکھا تھا؟ خاندان کی سکیورٹی پر 15 ارب روپے خرچ کیے؟ کروڑوں روپے کی 38 گاڑیاں منگوا کر اپنے خاندان میں بانٹ دیں، مری میں گورنر ہاؤس میں 50 کروڑ روپیہ آرائش پر لگا کر وہاں ویک اینڈ منائے جاتے تھے۔ چار ذاتی گھروں کو کیمپ آفس قرار دے کر کچن چلائے جاتے تھے۔ اور کچھ؟‘‘

رپورٹ سرے سے ہی مسترد نہیں کی جا سکتی

مگر یہ تنقید صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں ہو رہی بلکہ تحریک انصاف کے کچھ رہنما بھی اس رپورٹ کے حوالے سے حکومت سے ناخوش ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ملک میں کرپشن بڑھی ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کو ناقابل اعتبار قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''آپ کسی رپورٹ پر ایک فیصد، دو فیصد، پانچ فیصد یا دس فیصد تک جانبداری کا الزام لگا سکتے ہیں۔ لیکن اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کر سکتے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا ڈیٹا جمع کرنے کا اپنا طریقہ ہے اور یہ رپورٹ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ پنجاب میں کرپشن کا بازار کھلا ہوا ہے اور لوگ منہ کھولے بیٹھے ہیں اور بغیر کسی شرم یا جھجک کے پیسے مانگ رہے ہیں۔‘‘

پی ٹی آئی ویڈیو اسکینڈل، الزام ثابت ہونے پر کارروائی ہو گی

اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے حوالے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انگریزی بولنے والا ایک مخصوص طبقہ عمران خان کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور اس نے یہ رپورٹ بنا دی ہے، ''جن کا ضمیر ہوتا ہے، وہ ایسی رپورٹوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

بیانیہ سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر علی بلوچ کا کہنا ہے کہ اب عمران خان کے کرپشن کے خلاف لڑنے کے بیانیے کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہمارا تو پہلے ہی یہ موقف تھا کہ یہ حکومت نا اہل ہے اور یہ ایک کرپٹ ٹولہ ہے اور اب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی ہماری اس بات کی تصدیق کردی ہے جس کی وجہ سے عمران خان بری طرح بے نقاب ہوگئے ہیں۔ ان کے دائیں بائیں سب لوگ کرپٹ ہیں لیکن ان کا سارا زور اپوزیشن کو کرپٹ قرار دینے پر ہے اور وہ نیب کو بھی حزب اختلاف کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔‘‘

گلوبل کرپشن انڈکس: امریکا اور پاکستان کی رینکنگ مزید گر گئی

صابر علی بلوچ کے مطابق اس رپورٹ کے اجراء کے بعد اب نہ صرف عمران خان کی سیاسی ساکھ  کو بہت نقصان پہنچے گا ''بلکہ حکومت کے اینٹی کرپشن دعووں کو بھی لوگ سنجیدگی سے نہیں لیں گے اور یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ عمران خان اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے یہ نعرہ استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

’عمران خان کرپٹ نہیں‘

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ نوکر شاہی میں اب بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی باقیات موجود ہیں، جو ممکنہ طور پر کرپشن میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ن لیگ اور پی پی پی نے اتنے زیادہ کرپٹ بیوروکریٹس کو اپنے ادوار میں مختلف عہدوں پر لگایا اور اب ممکنہ طور یہی بیوروکریٹس حکومت کو بدنام کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستانی صارفین کرپشن سے نہیں مہنگائی سے پریشان، رپورٹ

محمد اقبال خان آفریدی کے بقول جہاں تک عمران خان کی ذات کا تعلق ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کوئی ایسی بات نہیں کی، جس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ عمران خان نے ذاتی طور پر کوئی کرپشن کی ہے۔ انہوں نے کہا، ''جہاں کہیں سے بھی عمران خان کو صوبائی یا وفاقی سطح پر کسی بھی کرپشن کے حوالے سے کوئی خبر ملی، انہوں نے فوری ایکشن لیا ہے۔ حکومت اور عمران خان دونوں کے دامن بالکل صاف ہیں۔ کچھ کرپٹ عناصر بہرحال ہیں، ممکن ہے انہوں نے کرپشن کی ہو۔‘‘