’وہ زندہ بھی آزاد تھیں اور اس دنیا سے رخصت بھی آزاد ہوئیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 11.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’وہ زندہ بھی آزاد تھیں اور اس دنیا سے رخصت بھی آزاد ہوئیں‘

انسانی حقوق کی علمبردار اور قانون دان عاصمہ جہانگیر کی دوسری برسی آج منائی جا رہی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کو پاکستان میں انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی اظہار کی ایک طاقت ور آواز کے طور پر جانا جاتا تھا۔

عاصمہ جہانگیر کی قد آور شخصیت کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ پاکستانی صحافی آئمہ کھوسہ نے لکھا، ''کسی بھی طرح کا خراج عقیدت عاصمہ جہانگیر کی زندگی اور شخصیت میں تنوع کو مکمل طور پر پیش نہیں کر سکتا۔  وہ زندہ بھی آزاد تھیں اور وہ اس دنیا سے رخصت بھی آزاد ہوئیں۔‘‘

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے شہری احسان میر نے اپنی ٹوئیٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ''عاصمہ جہانگیر نے پاکستان میں ہمیشہ پسے ہوئے طبقے کے لیے آواز اٹھائی۔ بلوچستان کے عوام عاصمہ جہانگیر کو بہت یاد کرتے ہیں۔‘‘

ٹوئیٹر کے ایک سرگرم صارف شان یوسف کے مطابق، ''عاصمہ جہانگیر نے ان مسیحی افراد کا کیس لڑا جن پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا اور جن کا کیس کوئی نہیں لڑنا چاہتا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے احمدی کمیونٹی کے لیے آواز اٹھائی، انہوں نے پاکستان میں قانونی امداد کا پہلا سنٹر کھولا اور بے سہارا اور تشدد کی شکار خواتین کو پناہ دی۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری لکھتی ہیں، ''نڈر اور آئرن لیڈی کی موت نے ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ ان کے جانے کے بعد بہت کچھ ہوا اور ہر صورتحال میں یہ اندازہ ہوا کہ ان کی آواز اور بہادری کتنی معنی خیز تھی۔‘‘

پاکستانی شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے شہری شفقت وزیر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ''آج باہمت، بہادر اور نڈر عاصمہ جہانگیر کی برسی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے جانے سے صرف ان کے بچے ہی یتیم نہیں ہوئے تھے بلکہ اس ملک کے لاکھوں بے زبان، مظلوم،  مفلس اور نادار انسان بھی یتیم ہو گئے تھے۔ کیونکہ وہ ایسے ہی لوگوں کی آواز تھیں۔‘‘

عاصمہ جہانگیر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی بین الاقوامی ایوارڈز دے گئے تھے۔

DW.COM