وزیر اعظم میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائیں: آر ایس ایف | حالات حاضرہ | DW | 01.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

وزیر اعظم میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائیں: آر ایس ایف

صحافیوں کی عالمی تنظیم 'رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز‘  (آر ایس ایف) نے  وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ  یا تو انہیں پاکستان میں آزادی صحافت کی مخدوش صورتحال کے بارے میں پوری آگاہی نہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر حقائق چھپا تے ہیں۔

وزیر اعظم کے نام ایک کھلے خط میں تنظیم کے سکریٹری جنرل  کرسٹوفر ڈیلوائر نے لکھا ہے کہ،'' آپ نے امریکا کے حالیہ دورے میں اس بات کی یقین دہانی کرائی کے پاکستان کی پریس کا شمار  دنیا کے آزاد ترین پریس میں ہوتا ہے لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاکستان سے امریکا پہنچنے کے چند گھنٹوں  بعد ہی جیو نیوز کو پھر بند کیا گیا۔ جس وقت آپ کے شہری آپ کے دورے سے متعلق خبریں دیکھنا چاہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے خالی اسکرین تھی۔‘‘

خط میں مذید لکھا ہے کہ،'' ایک ماہ قبل جیو نیوز پر ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری کے انٹرویو کو بھی بغیر کسی وضاحت کے نشر نہیں ہونے دیا گیا۔ جب آر ایس ایف نے حامد میر سے رابطہ کیا تو انہوں نے آپ کو اس سنسرشپ کا ذمہ دار قرار دیا۔‘‘

 آر ایس ایف کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ صحافی نجم سیٹھی کا بھی کہنا ہے کہ ان کے چینل 24 نیوز کو اپوزیشن رہنما مریم نواز شریف کی کوریج کی وجہ سے بند کیا گیا۔

 اس خط میں پاکستان کے سب سے پرانے انگریزی رونامہ ڈان کا بھی ذکر ہے۔ کرسٹوفر ڈیلوائر نے لکھا،'' وہ اخبار جسے محمد علی جناح نے قائم کیا  اور  برطانوی راج کے خلاف استعمال کیا آج وہ اخبار اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ آپ کی حکومت نے چوبیس  اپریل سے اس اخبار کو سرکاری اشتہارات سے محروم رکھا ہوا ہے۔‘‘ آر ایس ایف نے عمران خان پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آئین کی شق انیس کے مطابق  ملک میں اظہار آزادی اور آزادی صحافت یقینی بنائیں۔

اس معاملے پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکرسی کے اسد بیگ نے کہا،'' پاکستان میڈیا کی آزادی کے اکثر رینکنگز میں بہت کم درجے پر ہے۔ میرے خیال میں عمران خان کو آزاد میڈیا اور انٹرنیٹ کی اہمیت کا اندازہ ہونا چاہیے کیوں کہ اگر میڈیا آزاد نہ ہوتا تو آج پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہوتی جیسا کہ وہ خود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں۔‘‘