ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک: پاکستان میں رجحان کیا؟ | صحت | DW | 01.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک: پاکستان میں رجحان کیا؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک‘ ہر سال یکم سے سات اگست تک منایا جاتا ہے۔ اس ہفتے کو منانے کا مقصد بچوں کے لیے ماؤں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق  بچے کو پیدائش کے فوری بعد ماں کا دودھ دینا، دنیا بھر میں پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل موت کے منہ میں چلے جانے والے آٹھ لاکھ بیس ہزار بچوں کی جان بچا سکتا ہے۔

ماں کا دودھ کیوں ضروری

ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذائیت کا حامل ہوتا ہے جو بچے کو طاقتور اور صحت مند بناتا ہے اور یہ نومولود بچے کے لیے ایک مکمل غذا ہوتا ہے۔

اس میں وٹامن اے وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں ضروری فیٹی ایسڈ بھی ہوتے ہیں جو نومولود کے دماغ، آنکھوں اور خون کی نالیوں کی نشوونما کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ خاص طور سے ایسے پروٹین جو انفیکشن کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماں کے دودھ میں انفیکشن مخالف اجزا بھی ہوتے ہیں جو مختلف بیماریوں سے ننھے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ماں کا دودھ بچوں کو دست، سانس کی بیماریوں اور کان کی انفیکشن کے علاوہ دماغ کی جھلی کی سوجن اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے بھی محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پھر خود ماں بچے کو دودھ پلانے کے باعث کئی بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے مثلاً چھاتی کا سرطان، اور ہڈیوں کا بھربھرا پن وغیرہ۔

بریسٹ فیڈنگ اور پاکستان

عالمی ادارہ صحت کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 37.7 فیصد مائیں پیدائش کے چھ ماہ تک بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ اس وجہ سے ملک کے 44 فیصد بچوں میں نشونما سے متعلق مسائل پائے جاتے ہیں۔

تاہم پاکستان کے نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق ملک میں سن 2011 کے مقابلے میں 2018 تک بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر انہیں ماں کا دودھ دینے کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ شرح 40 فیصد سے بڑھ کر 45.8 فیصد تک پہنچ گئی۔

سروے کے مطابق صوبائی سطح پر بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں 61 فیصد، پنجاب میں 44 فیصد، سندھ میں 50  فیصد جب که بلوچستان کی 20 فیصد ماؤں نے بچوں کی پیدائش کے بعد انہیں اپنا دودھ پلایا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق بچوں کا اپنا دودھ پلانے والی ماؤں کی یہ شرح ناکافی ہے کیوں کہ اس وقت ہر دس میں سے صرف چار بچے ہی مکمل طور پر ماں کے دودھ پر انحصار کر رہے ہیں۔

کراچی کے آغا خان یونیوسٹی ہسپتال سے وابستہ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ثمینہ کمال کا کہنا ہے کہ محتاط اندازوں کے مطابق بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی ماؤں کی شرح کے حوالے سے جو صورت حال سامنے آتی ہے، وہ تسلی بخش نہیں۔

ڈاکٹر ثمینہ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں سالانہ پانچ برس سے کم عمر کے ستائیس لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ماؤں کا بچوں کو ابتدائی عمر سے اپنا دودھ نہ پلانا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’’غذائیت کی کمی کی وجہ سے بچوں میں مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں کیوں کہ ان  کا بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام بہت کمزور ہوتا ہے۔ ایسے بچے اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ ان کی نشونما عمر  سے مطابقت نہیں رکھتی جب کہ ان کی ذہنی صلاحیتوں میں بھی کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔‘‘

رسم و رواج بھی بریسٹ فیڈنگ کی راہ میں رکاوٹ

رتنا سنتوش کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور سے ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ علاقے میں موجود رواج کے مطابق پیدائش کے کچھ دیر بعد بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی بجائے بکری کا دودھ پلایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ ابتدا میں آنے والا پیلے رنگ کا دودھ بچے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اس لیے بچے کو بکری کا دودھ دیا جاتا ہے۔

فاطمہ بائی میٹرنٹی ہوم سے وابستہ ڈاکٹر معصومہ کہتی ہیں کہ یہ خیال درست نہیں کہ ابتدا میں آنے والا پیلی رنگت کا دودھ بچے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ یہ اینٹی باڈیز اور غذایت سے بھرپور ہوتا ہے جو بچوں کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ جب کہ بکری یا کسی اور جانور کا دودھ بچہ آسانی سے ہضم نہیں کر پاتا۔

ڈاکٹر معصومہ کے مطابق اس طرح کی ناقص معلومات سمیت کئی وجوہات ہیں جن کے سبب ماؤں میں بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے رجحان میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ کئی خواتین بچے کو پہلے گھنٹے میں دودھ نہیں پلاتیں اور اس کی بڑی وجہ ان کے خاندان یا علاقوں میں برسوں سے چلے آنے والے رواج ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو ابتدائی طور پر شہد یا جڑی بوٹی چٹانا یا بکری کا دودھ پلانا ماں کے دودھ سے زیادہ غذائیت رکھتا ہے جبکہ طبعی لحاظ سے یہ خیال سراسر غلط ہے۔ کئی مائیں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ کئی ملازمت پیشہ خواتین ملازمت کی وجہ سے بچے کو فارمولا دودھ  استعمال کرواتی ہیں تو کئی خواتین گھریلو مصروفیات کے باعث چھ یا سات ماہ کے بعد بچے کو دودھ پلانا بند کر دیتی ہیں۔‘‘

پاکستان میں بریسٹ فیڈنگ کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی

خیبر پختونخوا اسمبلی نے متفقہ طور پر ’خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2015‘ منظور کر رکھا ہے جس کے مطابق فارمولہ دودھ کے تیار کنندگان کو پابند بند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور فروخت کی اجازت حاصل کرنے کے علاوہ  لوگوں کو بوتل یا پیک شدہ دودھ  کو ماں کے دودھ کا نعم البدل کے طور پر نہیں پیش کر سکتے۔

اس کے علاوہ سندھ میں بھی ’سندھ پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2013‘ نافذ ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص یا فرد اس بات کا دعوی نہیں  کر سکتا کہ ان کی مصنوعات ماں کے دودھ کا متبادل یا اس سے بہتر ہیں۔

کوئی بھی پراڈکٹ سندھ میں اس وقت تک نہیں بیچی جا سکتی جب تک وہ صوبے کے قانون اور ایکٹ کے مطابق نہ ہو۔