وانی کی ہلاکت، پاکستان کی کشمیری تنظیمیں سراپا احتجاج | حالات حاضرہ | DW | 11.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وانی کی ہلاکت، پاکستان کی کشمیری تنظیمیں سراپا احتجاج

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں برہان وانی اور دیگر کشمیریوں کی ہلاکت کے خلاف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جارہا ہے۔


پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور دفترِ خارجہ نے برہان وانی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں نواز شریف نے کہا، ’’یہ افسوس ناک بات ہے کہ وانی کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف غیر قانونی طاقت استعمال کی گئی۔ ظالمانہ اقدامات بہادر کشمیریوں کو حق خود ارادیت کی جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔‘‘

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے دوران بیس سے زائد کشمیری اب تک ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ سینکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔


صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر کے صدر ڈاکڑ توقیر گیلانی نے کہا، ’’بھارتی بربریت نے مقبوضہ کشمیر میں تمام حدوں کو پار کر دیا ہے۔ بیس سے زائد کشمیری ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ فوج لوگوں پر براہ راست شیلنگ کر رہی ہے۔ اس کے باوجود تقریباً بارہ مقامات پر برہان الدین کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو کشمیر ایک بار پھر عسکریت پسندی کی طرف جائے گا لیکن اس بار اِس عسکریت پسندی کی باگ ڈور جہادیوں کے پاس نہیں ہو گی بلکہ خودمختاری کے علمبرداروں کے پاس ہوگی۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس واقعہ سے بھارت اور پاکستان پر بین الاقوامی برادری کا دباؤ بڑھے گا کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ اب نوجوان کشمیری یہ سوچ رہے ہیں کہ پر امن جدوجہد سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ پر امن جدوجہد کو دبانے کے لیے بھارت نے بے رحمانہ ریاستی طاقت استعمال کی ہے۔‘‘
سری نگر سے تعلق رکھنے والے سابق عسکریت پسند رہنما سلیم ہارون، جو برسوں سے پاکستان میں مقیم ہیں، نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میں نے جب ہتھیار اٹھائے، میں انیس سال کا تھا اور اُس وقت اشفاق مجید وانی کو شہید کیاگیا تھا اور پورے کشمیر میں غم وغصے کی لہر تھی۔ اب برہان وانی کو شہید کیا گیا ہے اور پورا کشمیر جل رہا ہے۔ وادی میں کرفیو لگایا گیا۔ علی گیلانی اور میر واعظ کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ یٰسین ملک کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج کشمیر کی بہنیں، مائیں اور بیٹے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا،’’متحدہ جہادکونسل میں مختلف جماعتوں کے لوگ ہیں اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ہم متحدہ جہاد کونسل کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں۔ بھارتی جارحیت کے خلاف سارے کشمیری متحد ہیں۔ وانی کی شہادت نے انہیں اور حوصلہ دیا ہے۔ حال ہی میں بھارتی حکومت نے کشمیر میں فوجی کالونیاں بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کی تمام کشمیری تنظیموں نے بھرپور مخالفت کی اور نئی دہلی کو فیصلے پر عمل درآمد روکنا پڑا۔‘‘


آزاد کشمیر کے سابق وزیرِاعظم سردار عتیق نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان کو فوراً اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ دوسرے بین الاقوامی فورمزپر بھی اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے۔ بھارت کو اس مسئلے پر سنجیدگی دکھانا چاہیے۔ وہاں براہ راست شیلنگ ہورہی ہے۔ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ تیس کے قریب لوگ ہلاک کردیے گئے ہیں۔ نئی دہلی نے بین الاقوامی تنظیموں کے داخلے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ کشمیر میں اقوام متحدہ یا کوئی بین الاقوامی این جی او کے لوگ نہیں جا سکتے۔ دنیا کےکونسے جمہوری ملک میں اس طرح کے غیر جمہوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔‘‘
ان کے بقول، ’’ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو جواز بنا کر پاک بھارت مذاکرات کا راستہ بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ کشمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور یہ صرف دو ممالک کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ اس سے خطے کا مستقبل بھی جڑا ہوا ہے۔ دونوں اطراف کے کشمیری اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی کو کشمیریوں کا طریقہ پسند نہیں ہے تو وہ کوئی اور پیمانہ طے کر لیں اور اس پر بات چیت شروع کر دیں۔ کسی تیسری قوت کو اس میں فریق بنا لیں۔ لیکن اس مسئلے کا کوئی حل ضرور ڈھونڈنا ہوگا، جو کشمیریوں کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘