1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Islamabad | Internationaler Frauentag 2019
تصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

نورالحق قادری کے خط کی مذمت ، استعفے کا مطالبہ

18 فروری 2022

حقوق نسواں کی کارکنان نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کی طرف سے عورت مارچ پر پابندی کی تجویز کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نورالحق قادری اپنے منصب سے استعفیٰ دیں۔

https://www.dw.com/ur/%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%82-%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D8%B7-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%B0%D9%85%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%81%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%DB%81/a-60832971

وفاقی وزیر نورالحق قادری نے اپنے خط میں وزیراعظم عمران خان کو تجویز کیا تھا کہ عورت مارچ کی بجائے 8 مارچ کو یوم حجاب منایا جائے۔ خواتین تنظیموں کا کہنا ہے کہ خواتین کے حوالے سے یہ ایک بین الاقوامی دن ہے جسے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور کوئی بھی خواتین کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے حقوق کے لئے آٹھ مارچ کو نہ نکلیں۔

Protest zum Weltfrauentag in Pakistan
پاکستانی خواتین عورت مارچ کو اپنے مطالبات کا ایک پلیٹ فارم بھی قرار دیتی ہیںتصویر: picture-alliance / dpa

وزیراعظم کو وضاحت پیش کرنی چاہیے

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، " وزیراعظم عمران خان کو فورا اس قابل مذمت خط کے حوالے سے وضاحت کرنا چاہیے اور اس وزیر  کو اس کے عہدے سے ہٹانا چاہیے کیونکہ اس طرح کے خط سے انتہا پسندوں اور مذہبی شدت پسندوں کے حوصلہ بڑھیں گے، خواتین مارچ کو پہلے ہی بہت ساری مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے اور اس طرح کے خطوط سے ان کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے۔"

مرد ساتھ دیں، راہنمائی نہ کریں

فرزانہ باری نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا، " میں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اگر خواتین مارچ پر کوئی حملہ یا تشدد ہوا تو اس سے پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہوگی۔"

مارچ ہر حالت میں ہوگا

فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ ان تمام خطرات اور دھمکیوں کے باوجود خواتین مارچ ہر صورت  پورے پاکستان میں منعقد ہوگا۔ "پاکستان خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی عالمی معاہدوں پر دستخط کرچکا ہے اور حکومت کسی بھی بنیاد پر اس مارچ کو روک نہیں سکتی حکومت کسی بھی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر لے یہ مارچ ہر صورت میں ہوگا اور ملک کے طول و عرض سے خواتین اپنے حقوق کے لئے نکلیں گی جو پدر شاہی نظام کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔"

نورالحق قادری کو معافی مانگنی چاہیے

کراچی سے تعلق رکھنے والی حقوق نسواں کی کارکن انیس ہارون کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کو اپنے اس بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "یہ افسوس کی بات ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے اب تک اس پر کوئی بیان نہیں آیا، وفاقی وزیر کو اپنا بیان واپس لینا چاہیے، ان کا یہ بیان انتہائی نامناسب ہے، انہیں شاید یہ علم نہیں کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں ان کی تعلیم، صحت اور  روزگار کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ 8 مارچ کا دن ان تمام مسائل کی طرف توجہ دلانے کے لئے منایا جاتا ہے، یہ خواتین کا آئینی حق ہے، جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔"

Pakistan Islamabad | Internationaler Frauentag 2021
عالمی ویمن ڈے پر پاکستان کے مختلف شہروں میں خواتین مختلف جلوسوں میں شرکت کرتی ہیںتصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

تنقید درست ہے

تاہم دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کا دعوی ہے کہ عورت مارچ پر تنقید درست ہے اور اس پر پابندی لگنی چاہیے۔ جمیعت علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ کے رکن جلال الدین ایڈووکیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "اس طرح کے مارچ حقوق نسواں کے نام پر مغربی تہذیب کو فروغ دے رہے ہیں اور مغربی اقدار کی پاسداری کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فحاشی پھیلاتے ہیں اور معاشرے کو بے راہ روی کی طرف لے کر جاتے ہیں لہذا ان پر پابندی لگنا چاہیے۔"

تعلیمی اداروں میں محبت اور نفرت کی نئی لہریں

جلال الدین ایڈووکیٹ کے بقول، "یہ حکومت خود بھی معاشرے میں برائیوں کو فروغ دے رہی ہے، آپ ٹیلی ویژن ڈرامے دیکھیں اور ان کے موضوعات دیکھیں، یہ ڈرامے اس حکومت کی مرضی سے ہی آرہے ہیں، ماضی میں شیریں مزاری نے ایسے قوانین بنانے کی کوشش کی جو کسی بھی طور پر اسلامی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے تھے اور انہیں اسلامی نظریاتی کونسل نے روکا۔ "

Pakistan Nankana Sahib Sikhs feiern Guru Nanak
پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری سکھ کمیونٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Tanvir Shahazad/DW

 بگڑی ہوئی روحیں

حکومتی حلقوں کی طرف سے صرف نورالحق قادری نہیں بلکہ دوسرے بھی رہنما ہیں جو عورت مارچ کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر جمشید اقبال چیمہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ہمارے معاشرے کی کچھ اقدار ہیں جن کی ہر صورت میں پاسداری کرنا چاہیے لیکن یہ بگڑی ہوئی روحیں جو عورت مارچ منعقد کرتی ہیں یہ معاشرتی اقدار، نکاح کے ادارے اور دوسری معاشرتی روایات کو ختم کرنا  چاہتی ہیں۔ ان کے خلاف سازش کرنا چاہتی ہیں۔"اسلام آباد، عورت مارچ کا پرامن اہتمام

 جمشید اقبال چیمہ کے بقول اس مارچ میں جو نعرے لگائے جاتے ہیں وہ انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ "اس کے علاوہ جو کتبے اٹھائے جاتے ہیں ان پر بھی قابل اعتراض باتیں لکھی ہوئی ہوتی ہیں جو ہماری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔"

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Shahbaz Sharif

شہباز شریف کی مبينہ آڈیو لیک، ن لیگ کی مشکلات میں اضافہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں