نواز شریف کی طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کے لیے ضمانت منظور | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کے لیے ضمانت منظور

پاکستانی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایک مقامی ہسپتال میں علاج کے لیے چھ ہفتوں کی محدود ضمانت منظور کر لی ہے۔ انہیں پچاس پچاس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے بھی جمع کرانا ہوں گے۔

منگل کے روز پاکستانی سپریم کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔ نواز شریف بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیل میں ہیں اور انہیں دل کے عارضے سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ انہیں بدعنوانی کے الزامات کے تحت سن دو ہزار سترہ میں وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں یہ سزا اپنے غیرملکی اثاثے ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر سنائی گئی تھی۔

نواز شریف کی جانب سے فروری میں بھی ایسی ایک اپیل مسترد کر دی گئی تھی، جس میں انہوں  نے طبی بنیادوں پر رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ آج عدالت کی جانب سے سنائے جانے والے ایک مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ ضمانت کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد مجرم کو دوبارہ خود کو قانون کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور اس کے بعد نئی ضمانت کے لیے نواز شریف کو نئے سرے سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنا ہو گی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نوازشریف کو گزشتہ برس بدعنوانی کے الزامات کے تحت عمر بھر کے لیے سیاست سے نا اہل قرار دیتے ہوئے انسداد بدعنوانی کے محکمے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کی اور ان کے خاندان کی جائیداد سے متعلق تین مختلف معاملات کی تفتیش کرے۔ نواز شریف ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہہ چُکے ہیں کہ عدالتیں اور فوج مل کر اُن کے سیاسی کیرئیر کو تباہ کرنے اور ان کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون  کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔  نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز متعدد مرتبہ ملکی وزیراعظم عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر اپنے والد کے ساتھ ’بدسلوکی‘ کرنے کا الزام عائد کر چکی ہیں۔ دوسری جانب عمران خان اور ان کی جماعت اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

 عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی کرپشن کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دیں گے۔ پاکستان میں مسلم لیگ نواز کے ساتھ ساتھ تیسری بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق ان سے ’سیاسی انتقام‘ لیا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ عدالت کی جانب سے پہلے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق  آصف علی زرداری اور ان کے چند ساتھیوں نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کئی لاکھ ڈالر کی منی لانڈرنگ کرتے ہوئے اس پیسے کو بیرون ملک بھیجا تھا۔

ا ا / ک م (ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز)

ملتے جلتے مندرجات