نواز شریف، خاقان عباسی، المیڈا کے خلاف غداری کیس کی سماعت | حالات حاضرہ | DW | 08.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نواز شریف، خاقان عباسی، المیڈا کے خلاف غداری کیس کی سماعت

پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی معروف صحافی سیرل المیڈا کے ساتھ پیر آٹھ اکتوبر کو اپنے خلاف ملک سے مبینہ غداری کے ایک کیس میں ابتدائی سماعت کے لیے لاہور کی ایک عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف

پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق مرکزی رہنما اور ملکی سربراہ حکومت کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیے گئے نواز شریف کے علاوہ اس مقدمے کے دو دیگر ملزمان میں سے ایک مسلم لیگ ن ہی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہیں اور دوسرے انگریزی روزنامہ ڈان کے اسٹنٹ ایڈیٹر سیرل المیڈا۔

ان تینوں شخصیات کو اپنے خلاف پاکستان سے غداری کے الزامات کا سامنا ہے اور آج پیر آٹھ اکتوبر کو شروع ہونے والی سماعت کی تکمیل پر عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان تینوں ملزمان کے خلاف ملک سے غداری کے الزام میں باقاعدہ مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ عدالت نے آج پہلے روز کی سماعت کے بعد اس کیس میں مزید کارروائی 22 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

New York Pakistans Premierminister Shahid Khaqan Abbasi

سابق پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

روئٹرز کے مطابق دو سابق سربراہان حکومت اور ایک معروف صحافی پر مشتمل ان تینوں ملزمان کے خلاف ملک سے مبینہ غداری کے الزامات کا تعلق نواز شریف کے ایک ایسے انٹرویو سے ہے، جو پاکستان کے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہوا تھا۔

اس انٹرویو میں نواز شریف نے بین السطور میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ 2008ء میں بھارتی شہر ممبئی میں کیے گئے عسکریت پسندوں کے ایک بڑے حملے میں پاکستانی ریاست نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ بارہ برس قبل ممبئی میں بیک وقت کئی مقامات پر کیے گئے ان دہشت گردانہ حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں کے حوالے سے بھارت کا بار بار یہ الزام رہا ہے کہ ممبئی میں اس خونریزی کے لیے لشکر طیبہ نامی عسکریت پسند گروہ کو مبینہ طور پر پاکستانی انٹیلیجنس کی مدد حاصل رہی تھی۔ اسلام آباد ان حملوں میں پاکستان کے کسی بھی شکل میں ریاستی کردار کی ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو اس وجہ سے بھی کافی تنقید کا سامنا رہا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے رہنماؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا اور یہی بھارتی الزام نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔

اس مقدمے میں سیرل المیڈا اس لیے ایک فریق ہیں کہ روزنامہ ڈان کے لیے نواز شریف کا یہ انٹرویو انہوں نے ہی کیا تھا۔ کچھ عرصے پہلے سیرل المیڈا کی بیرون ملک روانگی پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی اور آج اگر وہ عدالت میں پیش نہ ہوتے  تو انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن عدالت میں پیش ہو جانے پر اب ان کی گرفتاری کا مشروط حکم اور بیرون ملک جانے پر پابندی دونوں عدالت کی طرف سے ختم کر دیے گئے ہیں۔

سیرل المیڈا کے وکیل احمد رؤف نے آج کی عدالتی کارروائی کے بعد روئٹرز کو بتایا، ’’عدالت نے المیڈا کے وارنٹ گرفتاری واپس لیتے اور ان کا نام ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) سے خارج کر دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہم اپنا تحریری جواب 22 اکتوبر تک جمع کرائیں۔‘‘

نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس کیس میں غداری کے الزامات میں سیرل المیڈا کے نام کا شامل کیا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں آزادی رائے اور آزادی صحافت کو کتنے شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

م م / ع ا / روئٹرز، ڈی پی اے

DW.COM

Audios and videos on the topic