نوازشریف اور مریم نواز کی سزائیں معطل | حالات حاضرہ | DW | 19.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نوازشریف اور مریم نواز کی سزائیں معطل

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحب زادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف نیب عدالت کا فیصلہ معطل کر کے ان تینوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ایوین فیلڈ اپارٹمنٹ کیس میں پاکستان کی احتساب عدالت نے رواں برس جولائی میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحب زادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو سزا سنائی تھی۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے احتساب عدالت کی سزا معطل کر دی۔ عدالت کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کو پانچ پانچ لاکھ روپے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے زبردست ردعمل دیکھا گیا، جہاں ایک طرف صارفین اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے، تو دوسری جانب مختلف صارفین مایوسی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

ایک صارف کے مطابق نیب کے فیصلے پر اپیلوں کی سماعت ابھی جاری رہے گی۔

ایک پاکستانی صارف اقصیٰ خان کا کہنا تھا کہ آج کے بعد کرپشن کو قانونی جواز فراہم کر دیا گیا ہے۔

ایک اور صارف حمزہ زاہد نے لکھا کہ اس فیصلے سے نواز شریف اور مریم نواز کی بے گناہی ثابت ہو گئی ہے۔