نمونیا، پاکستانی بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ | صحت | DW | 12.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

نمونیا، پاکستانی بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ

اندازوں کے مطابق پاکستان میں نمونیا کے سبب 2030ء تک سات لاکھ بچے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں اس بیماری کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

آج دنیا بھر میں نمونیا کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آج بھی نمونیا دنیا بھر میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا سبب تصور کیا جاتا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نمونیا کے باعث ترقیاتی ملکوں میں پھیپڑوں کے انفیکشن زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرتے ہيں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں نمونیا نومولود بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سن 2016 میں عالمی سطح پر دو سال سے کم عمر آٹھ لاکھ اسی ہزار بچے نمونیا کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔

'جان ہاپکنز یونیورسٹی‘ اور غیر سرکاری تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگلی دہائی کے آخر تک دنیا بھر میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ بچے نمونیا کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں۔ نائجیریا کے سترہ لاکھ، پاکستان کے سات لاکھ جبکہ کونگو کے قریب ساڑھے چھ لاکھ بچوں کی زندگیوں کو 2030ء تک نمونیا کے باعث خطرہ ہے۔

’نمونیے کی دوا کی قیمت کم کی جائے‘

نمونیا کے عالمی دن کے موقع پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگر بچوں کو بروقت ویکسین اور اینٹی بايوٹکس فراہم کی جائیں اور بچوں کو اچھی غذا فراہم کی جائے تو قریب چالیس لاکھ زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ نمونیا پھیپڑوں کی بیماری ہے۔ اگر مریض میں اس بیماری کی فوری طور پر تشخیص کر لی جائے تو بیماری کا علاج ممکن ہو جاتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں اس بیماری کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’واٹکنز‘ کے مطابق  نمونیا کی ویکسین کی قیمت کو فوری طور پر کم کیا جانا چاہیے تاکہ غریب عوام کو اس کی رسائی حاصل ہو سکے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق اگلی دہائی کے آخر تک قابل علاج بیماریوں کے باعث بچوں کی ہلاکتیں ختم کرنا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:37

ایچ آئی وی، ملیریا اور ٹی بی کا خاتمہ مل کر ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے، میرکل

Audios and videos on the topic