نائن الیون حملوں نے فضائی سفر کو کیسے بدلا: سکیورٹی زیادہ، پرائیویسی کم | حالات حاضرہ | DW | 06.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نائن الیون حملوں نے فضائی سفر کو کیسے بدلا: سکیورٹی زیادہ، پرائیویسی کم

نائن الیون کے حملے امریکی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے قرار دیے جاتے ہیں۔ ان حملوں کے بعد سے ہوائی سفر میں تب تک پائی جانے والی کم ذہنی دباؤ کی صورت حال عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہے۔

گیارہ ستمبر سن 2001 کے ان حملوں میں ہائی جیکروں نے کمرشل ہوائی جہازوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انہیں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں میناروں اور پینٹاگون سے ٹکرا دیا تھا۔ ایک جہاز پینسلوانیا کے ایک کھیت میں گرا تھا۔

امریکا جانے والے مسافروں کی سکیورٹی نگرانی مزید سخت

ان حملوں کے بعد امریکا اور دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور مجموعی نگرانی کے عمل نے ہوائی سفر کو غیر معمولی حد تک ذہنی دباؤ کا باعث بنا دیا تھا۔

AP Iconic Images 11. September World Trade Center

نائن الیون کے حملے امریکی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے قرار دیے جاتے ہیں

حملوں سے پہلے کے دور کا ہوائی سفر

سامان کی اسکریننگ ہوتی تھی لیکن ہر شے کی چیکنگ معمول نہیں تھا۔ سکیورٹی چیک پوائنٹس پر بڑی بڑی قطاریں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ہوائی جہاز میں داخل ہونے کے گیٹ تک رشتہ دار اور دوست مسافروں کو الوداع کہنے آتے تھے۔ آخری وقت تک بات چیت اور معانقے و مصافحے جاری رہتے۔ مجموعی طور پر کسی کو الوداع کہنا بھی ایک لطیف عمل تھا، جس میں کسی کوفت کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔

کیا ہوائی اڈوں کا مکمل تحفظ تقریباﹰ ناممکن ہے؟

ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن

گیارہ ستمبر کے حملوں کے صرف دو ماہ بعد ہی اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ملکی کانگریس کے منظور شدہ ایک قانونی بل کی توثیق کرتے ہوئے ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے قیام کی منظوری دے دی۔

یوں ایک نئی سکیورٹی فورس قائم کی گئی، جس کی ذمہ داری ہوائی اڈوں کی حفاظت اور مسافروں کی مکمل اسکریننگ ہے۔ اس قانون سازی کے بعد خاص طور پر امریکا اور قریب قریب باقی سب ممالک میں بھی نجی کمپنیوں کو اپنے سکیورٹی اہلکار رکھنے سے روک دیا گیا۔

Großbritannien London Wartende Passagiere am geschlossenen Flughafen Gatwick

نائن الیون حملوں کے بعد ہوائی اڈوں کے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر مسافروں کی قطار طویل ہوتی جا رہی ہے

امریکی ہوائی اڈے مکمل طور پر ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کی نگرانی میں دے دیے گئے۔ سامان کی مکمل چیکنگ اور ہوائی جہازوں کے کاک پِٹس کو مزید محفوظ بنا دیا گیا۔ پرواز کے دوران نگرانی کے لیے کمانڈوز کی موجودگی بھی اہم قرار دی گئی۔ یوں مجموعی طور پر نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سب کچھ ہی بدل گیا۔

امریکی ایئرپورٹس پر سکیورٹی، بھارتی سفارت کار بھی متاثر

سکیورٹی انتہائی سخت

امریکا سمیت پوری دنیا میں ہوائی سفر کے لیے نئے سکیورٹی ضوابط متعارف کرا دیے گئے۔ مسافروں کے لیے اسکریننگ پوائنٹس پر اپنے بٹوے اور موبائل فون چیک کرانا اور بیلٹ اتارنا بھی لازمی قرار دے دیے گئے۔ ہوائی جہازوں کے اندر لے کر جانے والے چھوٹے بیگز اور خواتین کے لیے اپنے پرس کی بعض اشیاء کو بھی باہر رکھنا لازمی قرار دے دیا گیا۔

ایک 'شو بمبر‘ کی طرف سے ممکنہ حملے کی کوشش کے بعد تو زیادہ تر ہوائی اڈوں پر مسافروں کے جوتے اتروانا بھی اسکریننگ کے عمل کا حصہ ہے۔ اس طرح ایک مرحلے کے بعد سکیورٹی کا عمل طوالت اختیار کرتا گیا۔ کسی بھی مسافر کی نجی اشیاء بھی محفوظ نہیں۔ ہوائی جہاز کے اندر کسی بھی مسافر کی طرف سے ساتھ لے جائے جانے والے سیال مادے کی مقدار کا بھی تعین کر دیا گیا تا کہ کوئی بھی مسافر دوران پرواز مختلف سیال مادوں کو ملا کر 'مائع بم‘ نہ بنا سکے۔

Marokko Die Passagiere warten am Flughafen Marrakesch auf ihre Flüge

کئی ہوائی اڈوں پر مسافروں کو سکیورٹی کے لیے خاصا انتطار کرنا پڑتا ہے، جو ذہنی کوفت کا باعث ہوتا ہے

پری چیک اور کورونا

نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی چیک پوائنٹس پر لمبی قطاروں کے تناظر میں ایک نئی شرط متعارف کرائی گئی جس کے تحت بعض انتہائی ذاتی معلومات کی فراہمی پر قابل اعتماد مسافروں کو جوتے اتروائے بغیر ہی لیکن باقی ماندہ چیکنگ کے بعد آگے جانے کی اجازت دینا شروع کر دی گئی۔

پری چیک نامی اس سہولت کے تحت اب تک دس ملین امریکی شہریوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایڈمنسٹریشن اس تعداد کو اب پچیس ملین تک لے جانا چاہتی ہے۔

اب مسافروں کو ایک نئی مصیبت کا سامنا ہے اور وہ ہے کورونا وائرس کی وبا، جس نے فضائی سفر مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ع ح / م م (اے پی)