نئی دہلی میں ایک سادھو کے مرکز سے درجنوں خواتین کی رہائی | معاشرہ | DW | 27.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی دہلی میں ایک سادھو کے مرکز سے درجنوں خواتین کی رہائی

بھارتی دارالحکومت میں واقع ایک خیراتی مرکز پر چھاپا مار کر درجنوں خواتین اور کم سن لڑکیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ اس آشرم یا مرکز کو چلانے والا سادھو پولیس کے چھاپے سے قبل ہی روپوش ہو چکا ہے۔

تھامس روئٹرز فا‌ؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق سادھو وریندر دیو ڈکشٹ کے روحانی و خیراتی مرکز (آشرم) سے رہائی پانے والی خواتین کی تعداد ایک سو سے زائد ہے اور ان میں کئی کم سن لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ نئی دہلی ہائیکورٹ نے ایک وکیل کو اس آشرم پر مارے گئے چھاپے کی مکمل رپورٹ مرتب کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

نئی دہلی ہائیکورٹ کی جانب سے آشرم کی رپورٹ مرتب کرنے والے وکیل اجے ورما کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کو ایسے کمروں سے آزاد کرایا گیا، جنہیں باہر سے تالے لگے ہوئے تھے اور تالے توڑ کر کمروں کی تلاشی لینے کے دوران وہاں محبوس و مقید خواتین دستیاب ہوئیں۔

کمبھ میلہ: لاکھوں ہندو زائرین ’گناہ دھونے‘ کے لیے بےقرار

مطلوب گرُو کے آشرم پر چھاپہ، پانچ لاشیں برآمد

سائی بابا کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں من موہن سنگھ بھی شامل

نیپال، ہم جنس پرستوں کے لیے پہلا آشرم

دہلی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ سواتی مالیوال کا کہنا ہے کہ آشرم سے رہائی پانے والی خواتین کو روحانی سکون حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ یہ روحانی سکون کا مرکز نئی دہلی کے روہنی نامی علاقے میں واقع ہے اور اس کے رہنما خود ساختہ سادھو وریندردیو ڈکشٹ ہیں۔ ایسے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آشرم پر مقید رکھی گئی خواتین اور کم سن لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی تصدیق ہونے کے بعد سادھو ڈکشٹ کو خواتین کے جنسی استحصال کے الزام کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سادھو وریندر دیو ڈکشٹ اس وقت مفرور ہیں اور پولیس ان کو حراست میں لینے کی کوشش میں ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دہلی کے آشرم کے علاوہ خود ساختہ دیوتا نما ڈکشٹ کے قائم  کردہ دیگر مراکز پر بھی چھاپے مارنے اور تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

مقید عورتوں اور بچیوں کی رہائی کے عمل میں سرکاری ادارے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور دہلی کمیشن برائے خواتین کے اراکین بھی شامل تھے۔ پولیس کے چھاپے اور وکیل اجے ورما کے بیان پر آشرم کی انتظامیہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

بھارت میں ڈکشٹ کے آشرم سے قبل ایک اور ریاست ہریانہ میں روحانیات کا پرچار کرنے والے گورو گرمیت سنگھ کے مرکز پر بھی چھاپہ مارنے کے بعد اِس گورو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس گورو کو دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیی کے جرم میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ گورو گرمیت سنگھ کے عقیدت مندوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔

DW.COM

اشتہار