میں ٹھیک ہوں، اچھا محسوس کر رہی ہوں: میرکل کا جاپان میں بیان | حالات حاضرہ | DW | 29.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

میں ٹھیک ہوں، اچھا محسوس کر رہی ہوں: میرکل کا جاپان میں بیان

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور اچھا محسوس کر رہی ہیں۔ چند دن قبل مسلسل دوسری مرتبہ جب میرکل کا جسم اچانک کانپنا شروع ہو گیا تھا تو ان کی صحت کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔

ہفتہ انتیس جون کو اوساکا میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور وفاقی جرمن وزیر خزانہ اولاف شولس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

ہفتہ انتیس جون کو اوساکا میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور وفاقی جرمن وزیر خزانہ اولاف شولس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

جاپان کے شہر اوساکا سے، جہاں جمعے اور ہفتے کو جی ٹوئنٹی سمٹ کا دو روزہ انعقاد ہوا، وفاقی جرمن چانسلر میرکل نے اس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر ہفتہ انتیس جون کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور اچھا محسوس کر رہی ہیں۔

Japan Osaka | G20 Gipfel | Angela Merkel | Xi Jinping

انگیلا میرکل اوساکا میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ

جرمن سربراہ حکومت نے اپنا یہ بیان اس پس منظر میں دیا کہ ان کی ذات سے متعلق دو ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کا میڈیا میں بہت ذکر ہوا اور جس کے بعد چند حلقے ان کی صحت کے بارے میں اپنے طور پر گہری تشویش کا اظہار بھی کرنے لگے تھے۔

پہلا واقعہ یوکرائنی صدر کی موجودگی میں

ان واقعات میں سے پہلا تقریباﹰ ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصہ قبل اس وقت پیش آیا تھا، جب میرکل برلن میں ایک تقریب کے دوران یوکرائن کے صدر زیلنسکی کے ساتھ کھڑی ہوئی تھیں اور ان کا پورا جسم اچانک کانپنا شروع ہو گیا تھا۔

اس دوران انہیں پوری کوشش کر کے خود پر طاری ہونے والی کپکپی جیسی کیفیت کو قابو میں لانا پڑا تھا۔ اس بارے میں بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ تب موسم کافی گرم تھا اور انہوں نے کافی پانی نہیں پیا تھا، جس کی وجہ سے ان کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہو گیا تھا اور اسی وجہ سے ان پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔

Japan G20 Gipfel Osaka

میرکل نے اوساکا میں امریکی صدر ٹرمپ سے بھی ملاقات کی

دوسرا واقعہ جرمن صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر

 پھر گزشتہ جمعرات کو بھی برلن ہی میں ایک تقریب کے دوران میرکل بری طرح کانپنا شروع ہو گئی تھیں۔ یہ جرمن صدر شٹائن مائر کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی ایک تقریب تھی، جس میں نئی ملکی وزیر انصاف کرسٹین لامبریشت کی حلف برداری کے ساتھ ان کا وزارتی قلمدان ان کے حوالے کیا جا رہا تھا۔

اس تقریب میں بھی جب صدر شٹائن مائر تقریر کر رہے تھے اور نئی وزیر انصاف ساتھ کھڑی تھیں، تو صدر کے پاس ہی کھڑی ہوئی چانسلر میرکل کا جسم ایک بار پھر بری طرح کانپنا شروع ہو گیا تھا۔

یہ صورت حال تقریباﹰ دو منٹ تک ایسی ہی رہی تھی۔ اس دوران میرکل نے اپنے دونوں بازوؤں کے ساتھ اپنی اس کپکپی پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔

'میں بالکل ٹھیک ہوں‘

اس بارے میں 64 سالہ میرکل سے جاپان کے شہر اوساکا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اس بات کی وضاحت کر سکتی ہیں کہ ان کا جسم کیوں کانپنا شروع ہو گیا تھا اور آیا انہوں نے اس کے بعد اپنے معالج سے کوئی رابطہ بھی کیا ہے، تو میرکل نے کہا، ''بتانے کے لیے کوئی خاص بات ہے ہی نہیں، سوائے اس کے کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:55

میرکل کیوں کانپنے لگیں

اس سے قبل جرمنی کے شہر اشٹٹ گارٹ سے شائع ہونے والے دو اخبارات نے جمعہ اٹھائیس جون کو اپنی اشاعت میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ چانسلر میرکل کو جسمانی طور پر پیش آنے والے ان دونوں واقعات کی وجوہات 'نفسیاتی‘ تھیں۔

ساتھ ہی ان جرائد نے یہ بھی لکھا تھا، ''گزشتہ ہفتے پیش آنے والے اسی طرح کے پہلے واقعے کی یاد میرکل کے لیے ایسے دوسرے واقعے کی وجہ بنی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسے واقعات ہیں، جو نفسیاتی طور پر رونما ہوتے ہیں۔‘‘

لیکن ان دونوں جرمن اخبارات کے ان دعووں کے برعکس بہت سے حلقوں کے لیے میرکل کا آج جاپان میں دیا جانے والا وہ بیان زیادہ باوثوق ہے، جس میں مسلسل چار مرتبہ جرمن سربراہ حکومت بننے والی میرکل نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی صحت سے متعلق جس طرح اچانک کچھ خدشات سامنے آئے ہیں، وہی خدشات اتنی ہی جلدی سے دوبارہ ختم بھی ہو جائیں گے اور اہم بات یہ ہے کہ ''میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘

م م / ع ب / ڈی پی اے

DW.COM

Audios and videos on the topic