’میں جیسے جہنم میں تھا‘: روسی فوجی شمس الدینوف کو قید کی سزا | معاشرہ | DW | 21.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’میں جیسے جہنم میں تھا‘: روسی فوجی شمس الدینوف کو قید کی سزا

روس کی ایک فوجی عدالت نے نوجوان سپاہی رامیل شمس الدینوف کو ساڑھے چوبیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم نے فائرنگ کر کے آٹھ روسی فوجی قتل کر دیے تھے۔ اس کے مطابق وہ بے عزت اور ہراساں کیے جانے کے باعث ’جیسے جنہم میں تھا‘۔

روسی فوجی رامیل شمس الدینوف جسے ایک ملٹری کورٹ نے ساڑھے چوبیس سال قید کی سزا سنا دی

روسی فوجی رامیل شمس الدینوف جسے ایک ملٹری کورٹ نے ساڑھے چوبیس سال قید کی سزا سنا دی

ملزم رامیل شمس الدینوف نے روسی فوج میں بھرتی کے کچھ عرصے بعد 2019ء میں اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے آٹھ ساتھیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے مطابق اسے ملٹری میں بھرتی کے بعد جس طرح بےعزت اور ہراساں کیا گیا، اس کے بعد اسے مسلسل لگتا تھا کہ جیسے وہ 'جہنم‘ میں آ گیا تھا۔

'کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا‘

اپنی گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنی طرف سے ایک کھلا خط بھی لکھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ مقتولین کے اہل خانہ سے معافی چاہتا ہے مگر اس نے جو کچھ کیا، اس کے پاس اس کے سوا 'کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا‘۔

نگورونو کارا باخ میں روس نے اپنی امن فوج تعینات کردی

 یہ خط کافی عرصے تک روس میں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا رہا۔ خط میں ملزم شمس الدینوف نے لکھا تھا، ''مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ (فوج میں بھرتی ہو کر) میں ایک ایسی جگہ پہنچ جاؤں گا،م جو کسی جہنم سے کم نہیں ہو گی۔ میں نا کسی سے شکایت کر سکتا تھا اور نا ہی بھاگ کر کہیں جا سکتا تھا۔ میرے پاس اس بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔‘‘

Russland Soldaten Militärparde in Moskau

روس میں 18 سے لے کر 27 برس تک کی عمر کے مرد شہریوں کے لیے فوج میں سروس لازمی ہے

جیوری کی طرف سے رعایت کی سفارش

گزشتہ دسمبر میں ملزم کے خلاف ایک فوجی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے اس کے لیے 25 سال کی سزائے قید کا مطالبہ کیا تھا۔

ترکی آذربائیجان کے علاقوں سے آرمینیائی فوج کا انخلا چاہتا ہے

تب جیوری نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم قصور وار تو ہے مگر اس کے ساتھ اس کے جرم کے پس منظر کی وجہ سے کچھ نرمی برتی جانا چاہیے۔

جمعرات کو روسی علاقے سائبیریا کے شہر خِیتا میں ایک ملٹری کورٹ نے رامیل شمس الدینوف کو ساڑھے 24 سال قید کی سزا سنا دی۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزم کو اس کے جرم کی شدت اور نوعیت کے باعث کسی عام جیل کے بجائے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی جگہ میں رکھا جائے۔

خودکشی کرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، حکام پریشان

دو ماہ پہلے بھی ایسا ہی ایک واقعہ

گزشتہ برس نومبر میں بھی روسی فوج میں وورونیژ نامی شہر کے قریب ایسا ہی ایک اور خونریز واقعہ پیش آیا تھا۔

شام میں امریکی و روسی فوجیوں میں جھڑپیں

اس واقعے کا ملزم بھی اپنے فوجی یونٹ کے ساتھیوں کی طرف سے مسلسل بے عزت اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے شدید پریشان تھا اور بظاہر کسی نے اس کی شکایت پر توجہ نہیں دی تھی۔

اس روسی فوجی نے ایک ملٹری بیس پر اپنے تین ساتھیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

لازمی فوجی سروس

روس میں 18 سے لے کر 27 برس تک کی عمر کے مرد شہریوں کے لیے فوج میں سروس لازمی ہے۔ بہت سے شہری کسی نا کسی بہانے سے خود کو اس لازمی سروس سے بچا لیتے ہیں۔

یورپی یونین کے ساتھ کشیدگی، بیلاروس کی فوج الرٹ پر

تاہم فوج میں لازمی سروس شروع کرنے والے سپاہیوں میں سے بڑی تعداد وہاں اپنے ساتھیوں یا افسروں کی طرف سے مسلسل بے عزت اور ہراساں کیے جانے کی شکایت کرتی ہے۔

ایشیا کا نیا ممکنہ اتحاد، روس، چین، ایران اور پاکستان

فوج میں بدسلوکی عام

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی فوج میں جونیئر اہلکاروں اور نئے بھرتی ہونے والوں کو ہراساں کرنے کی روایت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ فوج میں نئے بھرتی کیے جانے والوں سے بدسلوکی 1990 کی دہائی تک تو ہوتی تھی مگر اب ختم ہو چکی ہے۔

’فرزند روس‘ امریکی فوجی افسر پر جاسوسی کی فرد جرم عائد

دوسری طرف انسانی حقوق کے لیے سرگرم روسی غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق رامیل شمس الدینوف کے ہاتھوں آٹھ فوجیوں کا قتل اور پھر گزشتہ نومبر میں اسی طرح کے ایک واقعے میں تین دیگر فوجیوں کی ہلاکت ثابت کرتے ہیں کہ سرکاری دعوے غلط ہیں۔ ناقدین کے مطابق روس میں نئے بھرتی ہونے والوں سے ذلت آمیز رویوں، انہیں بلاوجہ سزائیں دینے اور خوف زدہ کرنے کی روایت ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔

م م / ش ج  (اے ایف پی)