میڈیا کے بیروزگار کا انجام | دستک | DW | 28.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

میڈیا کے بیروزگار کا انجام

پاکستان کے میڈیا ورکرز کو کچھ برس پہلے تک نوکری ڈھونڈنے کی پریشانی سے زیادہ یہ مشکل تھی کہ کس نئے چینل یا اخبار کو جوائن کریں کس کی آفر رد کریں۔ لیکن اب صورت حال برعکس ہے۔ عفت رضوی کا بلاگ

آج سے سات برس قبل امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کے واشنگٹن دفتر میں ایک بریفنگ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں سروے ریسرچ کے نتائج سے بتایا جا رہا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا آنے سے کتنے ہی امریکی اخبارات، جرائد اور روایتی میڈیا کے اداروں کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، میڈیا ورکرز کی ایک بڑی تعداد بیروزگار ہو رہی ہے یا ہونے والی ہے۔

زیادہ پرانی نہیں 2015 کی بات ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں بڑے نام والے پرائیوٹ نیوز چینلز اپنی دھاک بٹھا چکے تھے اور چند نئے پرائیوٹ ٹی وی نیوز چینلز کا آغاز ہو رہا تھا۔ جو  نئے آئے، ان میں بعض کا پائلٹ تیار تھا، بعض تازہ تازہ ہی لانچ ہوئے تھے۔ساتھ ساتھ کچھ نئے اخبارات کا اجرا بھی ہوا۔

پاکستان کے میڈیا ورکرز کو اُن دنوں نوکری ڈھونڈنے کی پریشانی سے زیادہ یہ مشکل تھی کہ کس نئے چینل یا اخبار کو جوائن کریں کس کی آفر رد کریں۔

ملک کے سب سے بڑے اخبار کے گروپ کا نجی نیوز چینل اور اس کے بعد سونے کے بیوپاری گروپ کا نیوز چینل بڑی کامیابی سمیٹ چکے تھے۔ میڈیا کی طاقت تو خیر صدیوں سے مسلمہ ہی ہے سو بہت سے بڑے سرمایہ کاروں  کو بھی سوجھی کہ ہم اپنا نیوز چینل جاری کرتے ہیں پھر اپنے گھی تیل کے ڈبوں، چینی پتی یا صابن  یا اپنے نجی اسکول کالج کے اشتہار کو چلانے کے لیے کسی چینل کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے۔

اس کامیاب بزنس ماڈل سے نیوز چینل اور اخبار کے مالکان نے خوب کمائی کی۔ حکومتی اشتہارات، نجی کمپنیوں سے الگ اشتہار ملے، سیاسی جماعتوں نے بھی پارٹی اشتہار دیے۔

پھر میڈیا مہم کے نام پہ پراپیگنڈہ کرنے کے الگ پیسے بٹورے، کسی عالمی تنظیم کے اشتراک سے کوئی پراجیکٹ مل گیا تو اس کے الگ نوٹ کھرے کیے۔

یہ بات تو واضح ہے کہ وہ سرمایہ کار گروہ جنہوں سے اخبار  یا چینل بنانے اور چلانے پہ بڑی انویسٹمنٹ کی تھی، ان کامقصد عوام کو سچی کھری اور حق بات پہنچانا ہرگز نہ تھا۔ میڈیا آؤٹ لیٹ کھولنا سراسر ایک بزنس وینچر تھا اور ہے۔

 ان سرمایہ کار گروہوں نے اپنے چینلز، اخبار، بریکنگ نیوز، تحقیقاتی نیوز کو ڈھال بنا حکومتوں، اداروں اور شخصیات کو خوب بلیک میل کیا۔ جب کوئی خود ان پہ بات آئی تو آزادی صحافت کا پرچم بلند کر دیا۔

اب اس اتنی لمبی تمہید کا اصل مدعا یہ ہے کہ پاکستان کے میڈیا ورکر کو اس گنجلک کھیل میں کچھ نہ ملا، بعض کو تو تنخواہیں تک نہیں ملیں۔

پاکستان کی نیوز میڈیا انڈسٹری کو جو اچانک، بے وقت، بے طرح اور بے سمت کا عروج نصیب ہوا تھا، اس وقت خبروں کی فیکٹری چلانے کو ہزاروں میڈیا ورکرز درکار تھے۔ ہزاروں ہی اس انڈسٹری میں کھپ بھی گئے۔مگر وہ دن اب لدھ چکے ہیں۔

 ہم آج اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں سات برس قبل امریکی میڈیا کھڑا تھا اور وہاں کے ریسرچ ادارے وقت سے پہلے یہ اندازے لگا رہے تھے کہ کتنے اداروں سے کتنے میڈیا ورکرز بے روزگار ہوں گے۔

پاکستان کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبز اور سینیئر صحافی رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ آج کے صحافی اور میڈیا ورکرز کی زبوں حالی کا ملبہ صرف حکومت کی سینسر پالیسی پہ  ڈال کر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ میڈیا انڈسٹری میں اخبارات اور چینلز کے مالکان نے بھی بڑی اندھی مچائی ہے، ان کا محاسبہ ضروری ہے۔

ضروری ہے کہ خاص حالات میں خاص اقدامات لیے جائیں۔

کراچی کے میڈیا ورکر فہیم مغل پہلے نجی نیوز چینل سے نکالے گئے۔ ڈھونڈ کر ایک چھوٹے اخبار میں پیج میکر کی نوکری ملی تو وہاں سے بھی ڈاؤن سائزنگ کا شکار ہوئے۔ حالت پریشانی میں رکشہ چلایا مگر بات نہ بن سکی یہاں تک کہ چھ کمسن بچوں کو چھوڑ کر فہیم مغل نے خودکشی کر لی۔

پاکستان کے میڈیا ورکرز کی ایک بڑی مشکل اب یہ بھی ہے کہ اگر چینل یا اخبار سے نکالے جائیں تو پھر کہاں جائیں؟ جنہیں صحافت یا میڈیا پروفیشن کے علاوہ کوئی اور کام نہیں آتا وہ کیا کریں؟

ہر میڈیا ورکر کامیاب یوٹیوب چینل بنانے، اسے چلانے اور اس سے کامیاب ہو کر کمانے کا انتظار نہیں کر سکتا۔ ہر میڈیا ورکرز کے پاس حکومت کے دیے گئے پلاٹ نہیں ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اس کام کے سوا اور کوئی دوسرا  کام بھی تو نہیں آتا۔

اس آئس برگ کا نقطہ آغاز تو ہم دیکھ چکے ہیں۔ ابھی اور کتنے بیروزگار میڈیا ورکرز فہیم مغل کی طرح طوفان دل میں دبائے بیٹھے ہیں، یہ بات جرنلسٹ یونین تو کیا ان میڈیا ورکرز کے گھر والے بھی نہیں بتا سکتے۔

ہر دھڑ ے کی صحافتی تنظیموں، سینیئر مالدار یا پھر اثر دار صحافیوں اور پریس کلبز سے گزارش کرتی ہوں کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے حل کا سوچیں۔

کسی بڑی تبدیلی کے انتظار کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت تمام تنظیمیں مالی مشکل میں گھرے بے روزگار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے  امدای فنڈ کا اعلان کریں۔ جو کر سکتے ہیں وہ اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں اور شفاف طریقے سے عارضی قرضوں کی صورت میں مدد دی جائے۔

وزارت اطلاعات و  نشریات بھی اپنا کردار ادا کرے۔ مالکان سےنمٹنا ہو تو وزیر اطلاعات خود نمٹیں مگر میڈیا ورکرز اسی پاکستان کا حصہ ہیں جسے وہ تبدیل کرنے آئے ہیں۔ ان کا بھی سوچیں۔