1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تحریم عظیم (بلاگر)تصویر: privat

میرا کھانا پینا حلال ہو یا حرام، آپ کو کیا؟

12 فروری 2022

ہم سمجھتے ہیں کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے لیکن ہمارے اردگرد کے لوگ ہمارے اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ہمارا مذہب اور ہمارا س پر عمل کرنا ہم سے زیادہ ان کا معاملہ ہے۔ تحریم عظیم کا بلاگ

https://p.dw.com/p/46uxh

ہم نے کیا کھایا؟ کیا پہنا؟ کس سے ملاقات کی؟ کس قسم کی ملاقات کی؟ نماز پڑھی؟ کب پڑھی؟ کیسے پڑھی؟ کیا کمایا؟ کیا خرچا؟ کیا بچایا؟ کس سے رشتہ جوڑا؟ کس سے توڑا؟ ہمارے ارد گرد موجود لوگ یہ سب کچھ جاننا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

سونے پر سہاگہ کچھ لوگ تو ایسے سوال کچھ اس قدر بے تکلفی اور خود اعتمادی سے پوچھتے ہیں کہ ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بار ایک خاتون نے ہمارے گھر رات کے کھانے پر پلاؤ سے انصاف کرتے ہوئے ہماری اماں سے ہوچھا کہ ہم نے کتنی بچت کر رکھی ہے۔ ان کا انداز بالکل ایسے تھا جیسے اس پلاؤ کی ترکیب پوچھ رہی ہوں۔ ہم نے پاکستان چھوڑا تو ان کے سوالات کچھ اور قسم کے ہو گئے۔ ہم وہاں کیا کر رہے ہیں؟ سر پر دوپٹہ لیتے ہیں یا نہیں؟ لڑکوں سے ملنا ملانا کس حد تک ہے؟ اور کھانا پینا، وہ حلال ہے یا نہیں؟ خدا کی کرنی دیکھیں، ہم گئے بھی وہاں جہاں کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کرہ ارض پر موجود ہر شے چٹ کر جاتے ہیں۔

ہم جب بھی سوشل میڈیا پر اپنے کسی کھانے کی تصویر شیئر کرتے ہیں تو ہم سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کھانا کیا ہے؟ اس کا ذائقہ کیسا تھا؟ اسے بناتے کیسے ہیں؟ ہم سے صرف ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ کھانا حلال بھی تھا کہ نہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ سوالی کو یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کھانا ہم نے کھایا۔ ہاتھ ہمارے، دانت ہمارے، معدہ ہمارا، آنتیں ہماری، اگلے اعضاء بھی ہمارے، اس کھانے کا جواب بھی ہم نے ہی دینا ہے تو پھر سوالی کا ہمارے کھانے سے کیا لینا دینا؟
تحریم عظیم کی مزید تحریریں
کیا آپ اپنی والدہ کی زندگی جینا چاہیں گے؟
ایک خاتون کے اِن باکس میں کیا کچھ ہوتا ہے؟

کبھی سوچ آتی ہے کہ کیا پتہ ہم سے ہمارے اعمال کے جواب لینے کی ذمہ داری اللہ نے انہیں عنایت کر دی ہو اور ہمیں اس سے بے خبر رکھا ہو؟ ایسا ہے تو ہمیں خبر دی جائے۔ کوئی سند ملی ہو تو وہ دکھائی جائے۔ ہم پھر ہر کام کرنے سے پہلے نہ صرف انہیں مطلع کریں گے بلکہ اجازت بھی لیا کریں گے۔ جب تک ان کی طرف سے اجازت نہیں ملے گی، اپنا کوئی عضو تو کیا، خلیہ تک نہیں ہلائیں گے۔ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنے کھانے کو ان کی طرف سے سند مقبولیت حاصل ہونے تک کھانے کا سوچیں گے بھی نہیں۔

کچھ ہفتے پہلے کی بات ہے۔ ایک دوست نے کہا میک ڈونلڈز نے نیا برگر متعارف کروایا ہے۔ آؤ چلتے ہیں۔ برگر کھائیں گے  اور باتیں کریں گے۔ ہم نے کہا چلو۔ غلطی یہ کی کہ اس برگر کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ فوراً ایک آنٹی کا کمنٹ آگیا، حلال تھا؟ ہم نے سوچا، کافی سوچا۔ ایک اچھا سا جواب یاد آیا۔ پھر اماں جی کی جوتی یاد آگئی تو بس ان کے سوال کو لائک کر کے آگے بڑھ گئے۔

جواب دینے سے اماں جی برا مان جاتیں ورنہ ہم ان سے ضرور کہتے کہ جو بھی تھا، گیا ہمارے پیٹ میں ہے۔ آپ کے پیٹ کا ہمارے پیٹ سے کوئی تعلق نہیں سو آپ بے فکر رہیے۔ فکر کرنی ہے تو اپنے ''اُن" کی کیجیے جو اپنی سرکاری کرسی اور میز کے ہر طرف سے دونوں ہاتھوں سے پیسے وصولتے رہتے ہیں۔ ہم سے تھوڑی فرصت ملے تو کچھ سوال ان سے بھی پوچھ لیں۔ معمولی عہدے کی غیر معمولی تنخواہ سے خریدے جانے والی ہر شے اور سہولت حرام ہوتی ہے پر چھوڑیں، آپ صرف ہمارے برگر کی فکر کریں۔ ہم آپ کے چلغوزوں، بکروں اور مربعوں سے نظر ہٹاتے ہیں۔ نہ وہ ہمارے ہیں۔ نہ ہمیں ان کی حرص ہے۔

کہنے کو تو کہہ دیں پر ایسا کہنا بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری اماں کو ہمارے تمیز دار رہنے کی بہت فکر رہتی ہے۔ ان کی فکر کی خاطر ہمیں ایسے جوابات بس اپنے بلاگز تک محدود رکھنا پڑتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے خیر خواہ ہمارے بلاگز بھی پڑھ سکتے ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ اتنا تکلف نہیں کرتے ہوں گے۔ خواتین کی پیشہ ورانہ زندگی سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ ہاں بچہ دانی میں کیا چل رہا ہے، اس میں سب کی دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ چونکہ ہمارا بلاگ ہے، بچہ دانی نہیں سو ہم یہاں جو دل چاہے لکھ سکتے ہیں۔ وہ اس طرف ہلکی سی بھی توجہ نہیں کریں گے۔

کبھی انہیں ہمارے بلاگ میں دلچسپی محسوس ہوئی تو شاید انہیں پتہ لگے کہ ہم ان کی اپنی زندگی میں اس قدر مداخلت پر کتنا چڑتے ہیں اور ان کی اس مداخلت کے جواب میں انہیں کیا کچھ کہنا چاہتے ہیں پر اپنی اماں کی جوتی کے خوف سے نہیں کہہ پاتے۔

یہاں کہہ دیتے ہیں ہم جو بھی کھائیں وہ ہمارا معاملہ ہے۔ آپ ہم سے اور ہمارے معاملات سے جتنا دور ہو سکے رہیں۔ آپ سے ہمارے اعمال بارے نہیں پوچھا جائے گا۔ اس کی گارنٹی ہم آپ کو دیتے ہیں۔ آپ سے اگر سوال ہوگا تو آپ کے اعمال کے بارے ہوگا۔ آپ ان کی فکر کریں۔ ہماری نہیں۔
شکریہ!

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Islamabad | Journalist Arshad Sharif

سپریم کورٹ کے حکم پر صحافی ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں