میانمار کی آزادی کے ستر برس اور روہنگیا مہاجرین کا بحران | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار کی آزادی کے ستر برس اور روہنگیا مہاجرین کا بحران

برطانوی راج سے میانمار کو آزادی حاصل کیے ہوئے ستر برس مکمل ہو گئے ہیں۔ ان سات دہائیوں میں برس ہا برس فوج کی حکمرانی رہی لیکن سن 2017 میں پیدا ہونے والا روہنگیا مہاجرین کا بحران اس ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ ہے۔

میانمار نے چار جنوری سن 1948 کو برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تھی۔ آج کے دن نئے ملکی دارالحکومت نیپیداو میں پرچم لہرانے کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ موجودہ صدر ٹِن چا نے اپنے خصوصی پیغام میں اکثریتی آبادی اور نسلی اقلیتیوں میں اتحاد و اتفاق کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ فوج کے سربراہ جنرل مِن آؤنگ لانگ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ ستر سالوں سے میانمار کی عوام امن و استحکام اور ترقی و اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

بودھ بیوی اور روہنگیا شوہر، زندگی خوف کے سائے میں

بنگلہ دیش میں جنوری سے ایک لاکھ روہنگیا مہاجرین کی واپسی

'ایشیا کو امریکا کی ضرورت ہے، ٹرمپ کی نہیں‘

ڈبلن سٹی کونسل نے آنگ سان سوچی کو دیا اعزاز واپس لے لیا

میانمار پر قبضے کے بعد سن 1937 میں برطانوی حکومت نے اِس خطے کو برٹش انڈیا کا ایک صوبہ قرار دیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران اس پر جاپان نے قبضہ کر لیا تھا۔ سن 1948 میں پیپلز فریڈم لیگ نے زوردار مہم کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔ سن 1958 میں فوج نے عبوری طور پر حکومت سنبھالی اور پھر سن 1962 سے فوج نے کئی برس تک اقتدار اپنے قبضے میں رکھا۔

سن 2008 میں فوج نے ایک نیا دستور متعارف کراتے ہوئے عالمی دباؤ کے تحت جمہوریت کے لیے نظام الاوقات بھی مرتب کیا۔ اس نظام الاوقات کے تحت بیس برس سے زائد عرصے کے بعد سن 2010 میں پارلیمانی انتخابات کے تحت فوج کی حمایت یافتہ ایک سیاسی جماعت سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے سویلین حکومت قائم کی۔ فوج کے سابق سربراہ تھین سین نے سویلین صدر کا منصب سنبھال لیا۔

Myanmar Unabhängigkeits-Tag (picture-alliance/Zumapress/Xinhua )

چار جنوری سن 2018 کو دارالحکومت نیپیداو میں پرچم لہرانے کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی

سن 2015 کے پارلیمانی الیکشن میں نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ برائے ڈیموکریسی نے بھاری فتح حاصل کر کے اپنی حکومت قائم کی۔ اسی حکومت کے دور میں سن 2017 میں راکھین ریاست میں روہنگیا مہاجرین کا بحران پیدا ہوا۔ روہنگیا عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد میانمار کی فوج نے اپنی جوابی کارروائی شروع کی اور اس عسکری آپریشن نے روہنگیا مہاجرین کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔

لاکھوں روہنگیا مہاجرین میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش کے شہر کوکس بازار کے قرب و جوار میں کیمپوں میں زنگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اقوام متحدہ نے میانمار کی فوج کے آپریشن کو نسلی تطہیر قرار دیا۔ اب بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ان مہاجرین کی واپسی کی ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس ڈیل کے تحت رواں برس جنوری میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیا مہاجرین کی واپسی ممکن ہے۔

Myanmar Unabhängigkeits-Tag (picture-alliance/AP Images/Thein Zaw)

چار جنوری کو سارے ملک میں چھوٹے بڑے لوگ مختلف شادمانی کی تقریبات میں شریک رہتے ہیں

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف کئی زوردار تحریکیں ابھریں مگر انہیں فوج نے کرش کر دیا اور ان میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ میانمار کو سمندری طوفانوں نے بھی کئی مرتبہ شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ سن 2008 میں آنے والے سمندری طوفان نرگس نے ایک لاکھ چالیس ہزار انسان ہلاک کرنے کے علاوہ دس لاکھ کو بے گھر کر دیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:03
Now live
02:03 منٹ

’اپنا ملک بہت یاد آتا ہے‘

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار