’مہاجر بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 15.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجر بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی‘

’ڈاکٹرز آف دی ورلڈ‘ نامی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ یونان کے مہاجر کیمپوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو ’بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر‘ پیش کیا گیا ہے۔

چیرٹی ادارے ’ڈاکٹرز آف دی ورلڈ‘ کے سربراہ نِکاتاس کاناکِس نے برطانوی جریدے ’دی آبزروَر‘ کی اُس رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ یونان میں قائم مہاجر کیمپوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور وہ اتنے خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ شام ڈھلنے کے بعد اپنے کیمپوں سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

اس برطانوی جریدے نے اپنی رپورٹ میں ان کیمپوں میں کام کرنے والے رضاکاروں کے حوالے سے بچوں کے ساتھ ہونے والی اس مبینہ زیادتی کا بتایا تھا۔ تاہم نِکاتاس کاناکِس نے اتوار کے دن شائع ہونے والی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح اس رپورٹ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا تذکرہ کیا گیا ہے، ویسا کبھی بھی نہیں ہوا۔

نِکاتاس کاناکِس کے مطابق، ’’یونان میں قائم چودہ مہاجر کیمپوں میں ہماری موجودگی چوبیس گھنٹے رہتی ہے۔‘‘ انہوں نے ’دی آبزروَر‘ کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

کاناکِس کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے صرف دو کیس رجسٹر ہوئے ہیں، جن کے بارے میں تحقیقاتی عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے شواہد نہیں ہیں کہ ان کیمپوں میں بچوں کو وسیع پیمانے پر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یونان میں قائم کیمپوں میں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین مقیم ہیں۔

نِکاتاس کاناکِس نے ایسی خبروں کی اشاعت پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یورپ میں انتہا پسند گروہ غلط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے مہاجرین کے بارے میں عمومی غلط رائے کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح گویا ایسے مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ ‘تمام مہاجرین ہی مجرم ہوتے ہیں‘۔

Griechenland Leben im Flüchtlingslager in Vasilika

یونان میں قائم کیمپوں میں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین مقیم ہیں

’ڈاکٹرز آف دی ورلڈ‘ کے سربراہ کے مطابق یہ امر انتہائی خطرناک ہے کہ کسی کا نام یا حوالہ اور شواہد پیش کیے بغیر ہی ایسی خبریں شائع کر دی جائیں۔

’دی آبزروَر‘ نے اپنی رپورٹ میں امدادی کارکنوں کے حوالے سے کیمپوں میں بچوں سے وسیع پیمانے پر مبینہ زیادتی کے واقعات کا انکشاف کیا تھا تاہم ابھی تک اس حوالے سے اُن امدادی اداروں کا موقف نہیں لیا جا سکا ہے، جن کا برطانوی جریدے کی اس رپورٹ میں حوالہ دیا گیا ہے۔

اشتہار