مہاجرین کا ٹھکانا، سویڈن کا برف پوش، شمالی ہوٹل | مہاجرین کا بحران | DW | 19.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا ٹھکانا، سویڈن کا برف پوش، شمالی ہوٹل

سویڈن کے آرکٹک سرکل سے کہیں اوپر دو درجن کے قریب مہاجرین رات کے وقت جب ٹرین سے اترتے ہیں تو خود کو ایک سنسان اور برف میں لپٹے پلیٹ فارم پر پاتے ہیں۔ ’’ہم کہاں ہیں؟ کیا یہ ہماری آخری منزل ہے؟‘‘

''ہم کہاں ہیں؟ کیا یہ ہماری آخری منزل ہے؟‘‘ افغان مہاجر نعمت اللہ نے دریافت کیا۔ وہ افغانستان میں امریکی افواج کے لیے مترجم کے فرائض انجام دیتا تھا۔ اس نے ٹینس شوز پہنے ہوئے ہیں، جو کہ برف میں دھنسے جا رہےہیں۔

اسے کوئی جواب نہ ملا۔ ان کی یہاں آمد انتہائی بے ترتیبی کا شکار ہے۔ مہاجرین کے گروپ میں مرد، خواتین اور بچے سبھی شامل ہیں۔

اس ہوٹل تک پہنچانے کے لیے ان کو خوش آمدید کہنے والا کوئی نہیں ہے۔ خالی سڑک پر چند بتیاں جھلملا رہی ہیں۔ حجاب پوش خواتین برف کے تھپیڑوں سے خود کو بچا رہی ہیں۔ ہوٹل تک پہنچنے کے لیے ڈھائی گھنٹے تک بس میں سفر کرنا پڑا، وہ بھی اس صورت میں جب سڑک برف باری کے باعث بند نہ ہو۔

مہاجرین کو بالآخر ایک ہوٹل میں لے جایا گیا۔ اس ہوٹل کو دنیا کا شمالی ترین ہوٹل قرار دیا جاتا ہے، اور یہ سویڈن کے آرکٹک علاقے سے بھی پرے ہے۔ مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں سے آئے درجن بھر مہاجرین کا یہی پڑاؤ ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہیں۔ ان افراد کو شام سے نقل مکانی کر کے یورپ پہنچنے والے چھ سو مہاجرین کے ساتھ اس ہوٹل میں رہنا ہے۔

ایک امتحان

یہ کہانی سویڈن کے شدید سرد موسم اور اس ملک کی حکومت کو مہاجرین کے چیلنج سے نمٹنے کی ایک کٹھن صورت حال کی باہمی کشمکش کی ایک مثال ہے۔ دس ملین آبادی والے اس ملک کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو آباد کرنا ہے۔ ان کو خیموں، پارکوں اور ہوٹلوں میں عارضی پناہ دی جا رہی ہے۔ سہولیات کم ہیں اور کام زیادہ ہے۔

رِکسگرانسن کے اس علاقے میں موسم سرما انتہائی شدید ہوتا ہے۔ سال کے اس حصے میں سورج بالکل بھی نہیں نکلتا اور درجہ حرارت منفی تیس ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

تاہم ہوٹل کے منتظم سوین کلڈکیپ کی کوشش ہے کہ سخت امتحانات سے بچ کر اتنی دور آئے افراد کی زندگی کو جتنا آسان کیا جا سکے کیا جائے۔ کھانے پینے اور سکیورٹی کے علاوہ کلڈکیپ نے مہاجر بچوں کے لیے پڑھائی لکھائی کا بندوبست بھی کیا ہوا ہے۔ بالغوں کے لیے ایک جِم بھی موجود ہے۔

یادِ ماضی

مگر مہاجرین کو اپنے وطن کی یاد بہت ستاتی ہے۔ وائل الشاطر نامی ایک شامی مہاجر کہتا ہے کہ ایک وقت تھا جب شام میں زندگی بہت آسان تھی۔ ’’میں بارہ سو ڈالر ماہانہ تک کما لیتا تھا۔ ہم رات کے وقت ساحل کنارے چائے پینے کے لیے ساٹھ کلومیٹر تک سفر کر کے جاتے تھے اور صبح دو بجے گھر لوٹتے تھے۔‘‘

مگر پھر جنگ نے سب کچھ ہی تباہ کر دیا۔ الشاطر کے والد دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گئے اور الشاطر کو ملک سے بھاگنا پڑا۔

اب یہ مہاجرین جس جگہ ہیں وہ نہ صرف ان کے ملکوں بلکہ باقی یورپ سے بھی کٹی ہوئی ہے۔ ان کی امداد کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم کوئی لمحہ ایسا نہیں جب یہ مہاجر اپنے وطن کو یاد نہ کرتے ہوں۔