مکتب سے مہندی تک | دستک | DW | 23.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

مکتب سے مہندی تک

سویرے سویرے زندگی کے بیدار ہوتے ہی بچوں اور بچیوں کو سکول کی جانب جاتے دیکھنا ایک معمول کی بات لگتی ہے۔ لیکن خوابوں کے راستے پر رواں ان معصوم مسافروں کو آنے والا کل کیا تعبیر دے گا کوئی نہیں جانتا۔

علم کی شمع کے پروانے کہاں تک اڑان بھریں گے شاید انہیں خود بھی معلوم نہیں۔ ان حرماں نصیبوں کا تو ذکر ہی کیا کہ جنہیں اسکول کی عمارت کو اندر سے دیکھنا بھی میسر نہیں ہوتا۔ دستور پاکستان کا آرٹیکل 37 تعلیم کو ہر بچے اور بچی کا بنیادی حق قرار دیتا ہے لیکن معاشرتی اور معاشی نشیب و فراز اس تسلیم شدہ حق کے بھی آڑے آتے ہیں۔ ترقی کے اپنے اپنے اہداف کی جانب کبھی کچھوے کبھی خرگوش کی مانند رکتی بڑھتی ہر حکومت تعلیم کے شعبے کو ترجیح دیتی رہی یا نہیں اس سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کو بس اتنا اتفاق ہے کہ پاکستان ایک سو چھیالیس ممالک کی فہرست میں ایک سو بیسویں نمبر پر ہے۔ ثانوی تعلیم تک لڑکیوں کی رسائی کی شرح ابھی تک لڑکوں کے مقابلے میں نصف ہے۔

تشخیص مرض کے لیے معاشرے کی نبض ٹٹولیں تو دیہی علاقوں کی بچیاں سر فہرست ہیں کہ جن کے لیے اسکول سے آگے کی تعلیم آج بھی شجر ممنوعہ سی ہے۔ اور یہی کثیر تعداد کم عمری میں بیاہ بھی دی جاتی ہے۔ انسانی رویوں میں تبدیلی کی لہر شہروں سے ہوتی ہوئی دیہات تک پہنچ کر رفتہ رفتہ والدین کو قائل اور مائل کر تو رہی ہے کہ وہ بچوں اور بچیوں کو بلا تفریق زیور تعلیم سے آراستہ کریں لیکن جا بجا کہیں رسم و رواج آڑے آتے ہیں تو کہیں مذہب کی آڑ لے کر بچیوں کی تعلیم پر قدغن لگا دی جاتی ہے گو کہ اسلام مرد و زن، ہر دو کے لیے حصول علم لازم قرار دیتا ہے۔  

وہ خوش بخت بچیاں جنہیں ان کے باشعور والدین انگلی تھامے اسکول لے گئے انہوں نے بار ہا ثانوی اور اعلیٰ ثانوی امتحانات میں پورے تعلیمی بورڈ میں اول، دوئم اور سوئم آ کر داد و تحسین وصول کی۔ لیکن عمر اور قد بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان پر پابندیوں کا سلسلہ بھی دراز ہونے لگتا ہے۔ پس پردہ وجوہات میں حفاظت اور غیرت دونوں کار فرما رہتی ہیں۔

ان لڑکیوں کی تعداد مزید کم رہ جاتی ہے جو دسویں جماعت کے بعد کالج یا بارہویں کے بعد یونیورسٹی تک پہنچ پائیں۔  دیہات کی دختران حوا کے ہاتھوں میں ایسی لکیر کا پایا جانا لاکھوں میں ایک کے تناسب سے ہو تو ہو ورنہ جمہور کے ہاں ان کے ہاتھ پیلے کرنا ہی مرغوب چلا آیا ہے۔ عمر کے اس مرحلے پر شادی التوا میں ڈال کر یونیورسٹی میں داخلے کے لیے تو شہر کی لڑکیوں کو بھی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ انہیں والدین، بھائیوں اور نسبت طے پا جانے کی صورت میں منگیتر تک سے اجازت درکار ہوتی ہے۔

Anum Saba (privat)

انعم صبا

یونیورسٹی اگر دوسرے شہر میں ہو تو شاید ہزاروں میں سے ایک  بنت حوا کی داخلے کی آرزو پوری ہوتی ہے۔ یہی نہیں اس کے بعد فیس کی مد میں درکار رقم، سفر کے اخراجات اور ہوسٹل میں قیام و طعام ایک الگ امتحان ثابت ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ معاشرتی تنگ نظری اور معاشی تنگ دستی کے باوجود لڑکیاں یہاں بھی بہترین تعلیمی نتائج دکھاتی ہیں۔

خدا خدا کر کے بی ایس کا چار سالہ سفر مکمل ہو تو پھر سے شادی کے لیے والدین کا دباؤ شدت اختیار کرنے لگتا ہے۔ لڑکیاں منت سماجت سے ایم ایس کے لیے دو یا تین سال کی مزید مہلت  نہایت مشکل سے حاصل کر پاتی ہیں۔ والدین اور رشتہ داروں کو ان کی بڑھتی عمر کا روگ کھانے لگے تو تعلیم سے دستبردار ہوکر گھرداری کے لیے ہتھیار ڈالے بنا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ایسے میں کوئی لڑکی پی ایچ ڈی کا سوچے تو اسے بغاوت اور سرکشی کے مترادف سمجھنا عام ہے۔ وقت اور وسائل کے ضیاع کے ساتھ ساتھ زندگی برباد ہونے کی بشارت دینے والوں میں اہل خانہ ، پڑوسی اور رشتہ دار کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ بیٹے اور بیٹی سے یکساں محبت و شفقت کے باوجود والدین بیٹے کی تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے اس بنا پر بھی آسانی سے تیار ہوتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ دوسری جانب بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں تو ماں باپ کی ویسی دیکھ بھال نہیں کر پاتیں جیسی بیٹے سے متوقع ہوتی ہے۔

اس مرحلے پر خود کفالت کی خواہش مند لڑکی خود بھی والدین پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریزاں ہو کر جاب کی تلاش کا آغاز کرے تو تعلیمی اسناد اور اعلیٰ کارکردگی مل کر بھی اسے مطلوب یا موزوں ملازمت تک نہیں پہنچا پاتیں۔ حصول ملازمت کا پہاڑ سر ہو بھی جائے تو اسے ادارے میں مرکزی کردار ادا کرنے یا سربراہی کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔

اس نظر اندازی کے پیچھے صدیوں سے پنپتی چلی آئی وہ مخصوص سوچ کار فرما ہے، جو باور کراتی ہے کہ عورت عقل و فہم اور فیصلہ سازی کے پیمانے پر ناقص ہے۔

بجا کے قوت کے لحاظ سے اس کی ساخت کا عمومی موازنہ مرد سے نہیں لیکن علمی، تحقیقی اور تخلیقی کام کہ جن میں مشقت سے زیادہ ذہانت،  محنت اور رجحان کا عمل دخل ہے، اس میں فطرت نے عورت کو ہرگز پیچھے نہیں رکھا۔ مگر جہان جستجو میں سال ہا سال کی سرمایہ کاری اور دشت نوردی کے بعد خود انحصاری و خود کفالت کا کوئی نخلستان دکھائی نہ دیتا ہو، قلم ہاتھ سے چھن جائے تو وہ معاشرے میں اپنے لیے بلند مقام کے خواب ترک کر کے مہندی کے لیے اپنے ہاتھ پیش کر دیتی ہے۔

عائلی زندگی میں گرہستی کے ساتھ تعلیم اس کے شوہر کی رضا مندی، سسرال کی حوصلہ افزائی اور پڑھائی کے لیے ذاتی نیند کی قربانی مانگتی ہے۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پڑھی لکھی لڑکی سر تسلیم خم کرنے کی بجائے ہر معاملے میں مباحثہ کر کے زندگی اجیرن کر سکتی ہے۔ برسر روزگار بیٹے کے لیے ڈاکٹر یا اعلیٰ تعلیم یافتہ بہو کا سپنا دیکھنے والی ساس عورت ہونے کے باوجود اسے ہسپتال یا دفتر نہیں گھر پر کام کاج میں مصروف دیکھنا پسند کرتی ہے۔

درس گاہیں اگر لچک دار اوقات تدریس، سہل طریقہ امتحانات اور دفاتر اوقات کار میں نرمی کا نظام وضع کر سکیں تو تبھی خواتین کی تعلیم عام ہو سکتی ہے۔ لیکن عورت کی تعلیم کو اس کا ازلی و ابدی حق سمجھے جانے کی بجائے محض قومی خانہ پری، والدین کے تفاخر یا شوہر کے سٹیٹس سمبل کے طور پر قبول کیا جانا علم اور عورت دونوں سے خیانت ہے۔

یہ درست کہ ایک اعلٰی تعلیم یافتہ عورت، زیرک ماں اور دانش مند بیوی بن کر اپنے بچوں کو بہتر اور مفید انسان میں ڈھالنے کا تعمیری فریضہ زیادہ بہتر انداز میں سر انجام دے سکتی ہے لیکن اسے اپنے خوابوں کی تعبیر نہ پانے کا قلق ضرور رہتا ہے، کوئی بے نام کسک بے چین رکھتی ہے۔ وہ پلٹ کے دیکھتی ہے کہ وہ روشن صبح کہاں گم ہو گئی، جب وہ بھائی کے ساتھ گھر سے ایک جیسا بستہ لیےایک ہی مکتب کو نکلی تھی۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔