ميانمار کے انتخابات سے بہت زيادہ اميديں نہ رکھی جائيں، ماہرين | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ميانمار کے انتخابات سے بہت زيادہ اميديں نہ رکھی جائيں، ماہرين

ميانمار يا سابق برما ميں يکم اپريل کو پارليمنٹ کی 45 ضمنی نشستوں کے انتخابات ہو رہے ہيں۔ ان انتخابات ميں اپوزيشن جماعتوں کو پہلی بار رياستی ٹيليوژن پر اپنی تشہير کا موقع ديا گيا ہے۔

آنگ سان سوچی کی انتخاباتی مہم

آنگ سان سوچی کی انتخاباتی مہم

سن 2010 کے انتخابات کے برعکس اس مرتبہ بين الاقوامی مبصرين کو بھی ميانمار آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ميانمار ميں پارليمانی نشستوں کے ضمنی انتخابات ميں اپوزيشن کو جو آسانياں دی گئی ہيں وہ ايک ايسی اصلاحات پسند سياست کا نتيجہ ہيں جس کا تصور اس ملک ميں چند سال پہلے تک نہيں کيا جا سکتا تھا۔ صدر تھين سين کی قيادت ميں نئی حکومت مارچ سن 2011 سے جمہوری عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ دیگر اصلاحات کے علاوہ سياسی قيديوں کو رہا کرديا گيا ہے، پريس پر سنسر اور مظاہروں اور جلسے جلوسوں کے قانون کو نرم کرديا گيا ہے اور ٹريڈ يونينوں کو کام کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسی طرح ملک کی اقليتوں سے بھی مصالحت کی کوششيں جاری ہيں۔ اس کے باوجود ماہرين قبل از وقت بہت زيادہ اميديں باندھ لينے سے خبردار کر رہے ہيں۔

ميانمار ميں سياسی قيديوں کی رہائی

ميانمار ميں سياسی قيديوں کی رہائی

’برما مہم برطانيہ‘ کے سربراہ مارک فارمينر نے کہا: ’’يکم اپريل کے ضمنی انتخابات کو مبالغہ آميزی کی حد تک بڑھا چڑھا کر پيش کيا جا رہا ہے۔ اگر نيشنل ليگ فار ڈيموکريسی نے تمام ضمنی نشستيں حاصل کر ليں تب بھی وہ پارليمنٹ ميں اقليت ہی ميں رہے گی۔‘‘ پارليمنٹ کی 659 ميں سے ايک چوتھائی نشستيں پہلے ہی سے فوج کے ليے مخصوص ہيں۔ بقيہ نشستوں ميں سے 80 فیصد پر فوج کی قائم کردہ ’يکجہتی اور ترقی‘ نامی سرکاری پارٹی قابض ہے۔ اس کے علاوہ رياست کی ساری طاقت صدر تھين سين کے ہاتھوں ميں مرکوز ہے۔ پارليمنٹ کو حکومت کی نگرانی يا سياسی فيصلوں ميں مداخلت کی اجازت نہيں ہے۔ فارمينر نے کہا کہ يہ ايک نمائشی پارليمنٹ ہے۔

مانمار کے صدر تھين سين

مانمار کے صدر تھين سين

اپوزيشن کی رہنما اور نوبل انعام يافتہ آنگ سان سُوچی سے ميانمار ميں يہ اميد وابستہ ہے کہ پرانے حکمرانوں کو ہٹايا جا سکتا ہے۔ اس ليے ان انتخابات کو جمہوريت کا پہلا قدم سمجھا جاتا ہے۔ ليکن لوگ مايوس اور دلبرداشتہ بھی ہو سکتے ہيں۔

بعض سياسی تبديليوں کے باوجود ميانمار ميں انسانی حقوق کی شديد خلاف ورزياں اب بھی جاری ہيں۔ مغرب ميں ان انتخابات پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ جرمنی کے ترقياتی امداد کے وزير ڈرک نيبل نے ڈوئچے ويلے کو بتايا: ’’يورپی يونين پابندياں ختم کرنا چاہتی ہے کيونکہ ہم شہريوں کے ليے بہتر مستقبل کا امکان ديکھ رہے ہيں۔‘‘

ماہرين اس پر متفق ہيں کہ سرکاری سياسی جماعت اور نيٹ ورکس کے دھندلے اور غير شفاف ہونے کی وجہ سے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بارے ميں کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔

رپورٹ: سيمون گيرو، ڈوئچے ويلے / شہاب احمد صديقی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

اشتہار