موزمبیق میں ہر طرف سنّاٹا | حالات حاضرہ | DW | 30.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

موزمبیق میں ہر طرف سنّاٹا

افریقی ملک موزمبیق کے شمالی قصبے پالما میں ہر طرف سناٹا چھایا ہواہے۔ کئی دنوں تک چلنے والی خونریزی اورداعش کے قبضے کے بعد وہاں کے رہائشی جان بچانے کے لیے سڑک کے راستے، کشتی کے ذریعہ اور پیدل بھاگ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے پالما پر داعش کے حملے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ مقامی حکام کے ساتھ مل کرمتاثرین کی مدد کررہی ہے۔

اقو ام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن جارک نے کہا”ہم پالما میں اب بھی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بے حد فکر مند ہیں جہاں 24 مارچ سے مسلح حملے شروع ہوئے اور مبینہ طور پر درجنوں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘ 

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا’’ہم نے دہشت گردوں، پرتشدد دہشت گردی اور داعش کو شکست دینے کے لیے موزمبیق کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔“

عسکریت پسندوں نے بدھ کے روز پالما قصبے پر حملہ کردیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم حملہ تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے جب کہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔ سن 2017کے بعد سے عسکریت پسندوں کی خونریز کارروائیوں کا سلسلہ اب پورے شمالی موزمبیق میں پھیل چکا ہے۔

نشانہ فوجی اور حکومتی اہداف

 داعش نے حملہ ایک ایسی جگہ کیا جہاں سے صرف دس کلومیٹر دور پر فرانس کی کمپنی ٹوٹال اور توانائی سے وابستہ دیگر بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر کے ایک گیس پروجیکٹ پر کام کررہی ہیں۔

داعش نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا”خلافت کے سپاہیوں نے اسٹریٹیجک لحاظ سے اہمیت کے حامل قصبے پالما پر قبضہ کرلیا ہے۔“  ا س نے دعوی کیا ہے کہ حملے کا مقصد فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بناتھا۔حملے میں درجنوں فوجی اور ’صلیبی جنگیں لڑنے والے‘ ملکوں کے افرادمارے گئے۔ داعش یہ اصطلاح مغربی ملکوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایک سماجی کارکن ادریانو  نوونگا نے کہا کہ 75000 افراد پر مشتمل کابو ڈیلگاڈو صوبہ مکینوں سے پوری طرح خالی ہوگیا ہے۔  انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا”تشدد رک گیا ہے اور ایسا سمجھا جاتا ہے کہ کچھ عسکریت پسند تو واپس جاچکے ہیں لیکن کچھ اب بھی وہیں چھپے ہوئے ہیں۔“

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل درجنوں جنگجو قصبے میں داخل ہوگئے تھے۔ پالما کے رہنے والے ایک شخص نے مویڈا،جہاں انہوں نے پناہ لے رکھی ہے، سے بتایا ”حملہ آور چند روزقبل ہی قصبے میں پہنچ گئے تھے۔ وہ مقامی لوگوں کے گھروں میں چھپ گئے تھے۔ حملے کا آغا ز پالما جانے والی اہم شاہراہوں سے کیا گیا۔“  عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے حملہ آوروں کو بھگانے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک قصبے کے اندر موجود جنگجووں نے پولیس پر حملہ کردیا۔

حملے میں بچ جانے والے متعدد افراد کا کہنا تھا کہ انہیں جنوب میں مویڈا میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جنگل میں 180 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو قدم اٹھانا مشکل ہورہا تھا تھے، ان کے پاؤں سوج گئے تھے۔ ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ”بہت سے لوگ تھک کر گر گئے۔ وہ مزید چلنے کے قابل نہیں تھے۔ ان میں خاص طور پر بوڑھے لوگ اوربچے شامل تھے۔“

موزمبیق میں سن 2017 سے شروع ہونے والے داعش کے حملوں میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد ہلاک اورسات لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔

ج ا/  ص ز  (اے ایف پی،اے پی)

 

DW.COM