مودی کے ليے اعزاز، پاکستانیوں میں غم و غصہ | حالات حاضرہ | DW | 25.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی کے ليے اعزاز، پاکستانیوں میں غم و غصہ

متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھارتی وزير اعظم نريندر مودی کو اعلیٰ ترين سويلين اعزاز دینے پر پاکستان میں سوشل میڈیا پر ’شیم آن یو اے ای‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

ابو ظہبی کے ولی عہد شيخ محمد بن زائد النہيان نے ہفتے کے روز ايک خصوصی تقريب ميں نريندر مودی کو اس اعزاز سے نوازا۔  مودی سے مخاطب ہو کر انہوں نےکہا، ''آپ اس کے حقدار ہيں۔‘‘

متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعظم کو اس اعلیٰ اعزاز سے نوازے جانے کا فيصلہ رواں برس اپريل ميں کيا تھا۔ اپنی ايک ٹوئيٹ ميں شيخ النہيان نے اس کی وجہ بھارت کے ساتھ تاريخی و اقتصادی تعلقات بتائے تھے، جو اُن کے بقول مودی کے دور حکومت ميں مزيد مستحکم ہوئے ہیں۔

مسئلہ شاید ٹائمنگ کا ہے جو پاکستان میں لوگوں کو ناگوار گزرا۔ ایک ایسے ماحول میں جب کشمیری بیس روز سے کرفیو کے تحت پابندیوں کا شکار ہیں اپنے ایک قریبی برادرم ملک کی طرف سے مودی کو اعزاز دیا جانا پاکستان کی سبکی کے طور پر دیکھا گیا۔ لیکن مبصرین کے مطابق پاکستان کی اپنی معاشی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے  وہ اس اقدام پر کوئی احتجاج کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں۔

تجارتی اعتبار سے ديکھا جائے، تو بھارت اور متحدہ عرب امارات کئی دہائيوں سے اہم پارٹنر ممالک رہے ہيں۔ اس وقت لگ بھگ تیس لاکھ بھارتی شہری متحدہ عرب امارات ميں مقيم ہيں جبکہ اگر خليجی رابطہ کونسل کے تمام رکن ملکوں ميں بھارتی شہريوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے، تو يہ قريب ساڑھے اسی لاکھ ہيں۔ یہ تارکین وطن ہر سال کئی ارب روپے بھارت ميں اپنے گھر بھيجتے ہيں۔ اس کے علاوہ بھی بھارت اور متحدہ عرب امارات کے سياسی اور دفاعی تعلقات کافی مضبوط ہيں۔

اس دوران پاکستان ميں ٹوئٹر پر اس وقت #ShameOnUAE ٹاپ ٹرينڈ کر رہا ہے۔ لوگ کھل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہيں۔ ٹوئٹر صارف محمد ماز لکھتے ہيں کہ ظلم و ستم ميں وہ لوگ برابر کے شريک ہيں، جو آواز نہيں اٹھاتے۔

اسی طرح ايک اور صارف نائلہ لکھتی ہيں کہ ايسی قوتوں کا ايمان صرف دولت ہے اور يہ نام کے مسلمان ہيں۔

اماراتی پروفيسر عبداللہ کے مطابق گو کہ ايوارڈ ديے جانے کا وقت ذرا عجيب تھا ليکن متحدہ عرب امارات نے درست فيصلہ کيا ہے۔ انہوں نے کہا، ''آپ چاہے جو بھی کريں، چاہے جس طرح بھی کريں، کچھ لوگ تنقيد ضرور کريں گے۔‘‘

بيروت ميں مقيم انسانی حقوق کے سرگرم کارکن حديد کے مطابق اس ايوارڈ سے بھارت نہ صرف بين الاقوامی سطح پر مذمت سے بچنے ميں کامياب ہو گيا ہے بلکہ اسے مسلمان ملکوں کی حمايت بھی مل رہی ہے۔ ''بھارتی اقدامات سے نہ صرف کشميريوں کی آواز دبے گی بلکہ ان ممالک کی عدم دلچسپی واضع ہوگی جو اب تک کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے آئے ہیں۔‘‘

ٴع س / ش ج، نيوز ايجنسياں

ملتے جلتے مندرجات