مودی سرکار کشمیر کی سچائی چھپا رہی ہے: بھارتی اپوزیشن کا الزام | حالات حاضرہ | DW | 24.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی سرکار کشمیر کی سچائی چھپا رہی ہے: بھارتی اپوزیشن کا الزام

راہول گاندھی کی قیادت میں بھارتی اپوزیشن کے وفد کو سری نگر ہوائی اڈے سے زبردستی واپس دہلی بھیج دیا گیا۔ بھارتی حکام نے ساتھ جانے والےصحافیوں کو مارا پیٹا اور کوریج کرنے سے منع کیا۔  

آٹھ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پر مشتمل یہ وفد ہفتے کی دوپہر سری نگر پہنچا لیکن اسے چند منٹوں کے بعد ہوائی اڈے سے ہی زبردستی دہلی واپس روانہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی سکیورٹی فورسز نے وفد کے ہمراہ جانے والی میڈیا ٹیم کو وفد سے الگ کرکے ان پر تشدد کیا۔

وفد میں شامل راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر، سینئر کانگریسی رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے حکومت کے رویے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا، ”ایک طرف تو حکومت دعوی کر رہی ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں دوسری طرف کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اگر حالات معمول پر ہیں تو سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کیوں رکھا گیا ہے؟“

آزاد نے اس سے پہلے بھی جموں جانے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں جموں ہوائی اڈے سے ہی واپس لوٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا، ”بیس دن ہونے والے ہیں، بیس دن سے ہمیں صورت حال کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل رہی ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ حالات معمول پر ہیں لیکن وہ ہمیں جانے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی ہے؟ کیا حکومتی دعوؤں میں تضاد نہیں؟‘‘

وفد میں شامل سابق وفاقی وزیر شرد یادو نے اپنی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ”جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے کیا ہم بھارت کے کسی حصے میں جا نہیں سکتے؟“ بائیں بازو کی جماعت کے رہنما سیتا رام یچوری کا کہنا تھا، ”جموں و کشمیر کے گورنر نے خود ہی اپوزیشن لیڈروں سے درخواست کی تھی کہ وہ آئیں اور کشمیر کے حالات دیکھیں۔ ہم تو ان کی دعوت کا احترام کرتے ہوئے وہاں گئے تھے۔“

رکن پارلیمان ڈی راجہ نے کہا، ”حکومت سچائی چھپا رہی ہے۔ جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لیے بغیر ہمیں اس لیے واپس کیا گیا کیوں کہ حالات معمول پر نہیں ہیں۔“ وفد کے ایک اور رکن مجید میمن کا کہنا تھا، ”ہمار ا مقصد کسی طرح کی گڑبڑ پھیلانا نہیں تھا۔ ہم حکومت کی مخالفت کرنے نہیں گئے تھے۔ ہم تو وہاں حکومت کی مدد کرنے گئے تھے کہ ہم بھی مشورہ دے سکیں کہ وہاں کیا کیا جانا چاہیے۔‘‘

اپوزیشن اراکین جب دہلی سے سری نگر روانہ ہو رہے تھے اسی وقت یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ انہیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک ٹویٹ میں کہا، ”اپوزیشن رہنماؤں کشمیر نہ آئیں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ ان کے آنے سے لوگوں کو پریشانی ہوگی۔ سینئر رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ امن وقانون برقرار رکھنے اور نقصان کو روکنے کے کام کو ترجیح دی جائے گی۔‘‘



اس دوران اپوزیشن وفد کے سری نگر ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد وہاں افراتفری کی صورت پیدا ہوگئی۔ وفد کے ساتھ دہلی سے گئی میڈیا ٹیم کو اپوزیشن لیڈروں سے الگ تھلگ کردیا گیا اور پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ میڈیا ٹیم میں شامل نیوز چینل ’آج تک‘ کی صحافی موسمی سنگھ کا کہنا تھا، ”ہمارے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔۔ مجھ پر خواتین پولیس اہلکار وں نے حملہ کردیا اور مجھے مارنا شروع کردیا۔“ ایک اور صحافی اشوک سنگھل کا کہنا تھا، ”میڈیا کو وفد کے اراکین کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سب کو دھکے مار کر باہر نکال دیا گیا۔ ہم سے کہا گیا کہ اس کی کوریج نہ کریں۔‘‘

مودی حکومت کی جانب سے پانچ اگست کوجموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے اعلان کے بعد سے وہاں کے بارے میں خبریں نہیں مل پارہی ہیں۔  ٹیلی فون، موبائل اورانٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی ذرائع تقریباً بند ہیں اور بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

قبل ازیں کشمیر کی اس صورت حال کے حوالے سے جب اپوزیشن نے نکتہ چینی کی تو ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے راہول گاندھی کو وادی آنے کی دعوت دی کہ وہ خود آکر حالات دیکھ لیں۔ گورنر ملک نے بعد میں ایک بیان میں اپوزیشن پر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنماوں کے دورے سے مسائل پیدا ہوں گے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic