منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کی بہن فریال تالپور بھی گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کی بہن فریال تالپور بھی گرفتار

پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے ادارے نیب نے لاکھوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ قبل ازیں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو یا نیب کی طرف سے جمعہ چودہ جون کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون سیاستدان فریال تالپور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں اسلام آباد میں واقع زرداری ہاؤس میں رکھا جائے گا۔ چیئرمین نیب نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے زرداری ہاؤس کو ہی سب جیل قرار دے دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب چند روز پہلے ہی پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی جعلی بینک اکاؤنٹس کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس گرفتاری کی شدید مذمت کی تھی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے۔

فریال تالپور کی گرفتاری کے بعد آصف علی زرداری کے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا، ''ہم نے مشرف کا مقابلہ کیا، ضیاالحق کا مقابلہ کیا، یہ کٹھ پتلی حکومت تو کوئی چیز ہی نہیں ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ فریال تالپور ایک بہادر عورت ہیں اور خواتین کے خلاف مقدمات بزدل لوگ بناتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان 'انتقامی کارروائیوں‘ کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری عمل کو رکنے نہیں دے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ''دعا کریں کہ آپ کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئے، ہم انتقام نہیں لیں گے۔‘‘

چند روز پہلے وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ملک کو لوٹنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے اور اس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ا ا / م م (اے ایف پی، اے اپی)