مندر پر حملہ: پاکستانی ہندوؤں میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ | حالات حاضرہ | DW | 05.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مندر پر حملہ: پاکستانی ہندوؤں میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر پر حملے کی وجہ سے پاکستان کی اقلیتوں میں بالعموم اور ہندو کمیونٹی میں بالخصوص غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کمیونٹی میں عدم تحفظ کا إحساس بھی بڑھ رہا ہے۔

چار اگست کے روز ایک مشتعل ہجوم نے رحیم یارخان کے علاقے بھونگ شریف میں ایک ہندو مندر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی اور مقدس مورتیوں کی بے حرمتی بھی کی تھی۔

اس واقعے کے خلاف ملک بھر کی ہندو برادری آواز اٹھا رہی ہے اور حکومت سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر نہ صرف غیر مسلم پاکستانیوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے بلکہ بہت سے ترقی پسند اور لبرل مسلمانوں نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوناک قرار دیا ہے۔ مولانا طاہر اشرفی سمیت کچھ مذہبی شخصیات نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما، رکن قومی اسمبلی اور ہندو کمیونٹی کے معروف سیاست دان رمیش کمار ونکوانی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ واقعہ انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور کل حکومت پنجاب کے اعلٰی عہدے داروں کو طلب کرلیا ہے۔ میں نے آج اس حوالے سے چیف جسٹس سے ملاقات بھی کی ہے اور امید ہے جو اس واقعے کے ذمہ داران ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔‘‘

پاکستان ہندو فورم کے سربراہ اور قومی کمیشن برائے اقلیتی امور کے رکن ڈاکٹر جے پال چھابڑیا نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہماری اطلاع ہے کہ ایک آٹھ سالہ ہندو بچہ بھاویش کمار میگھواڑ غلطی سے کسی مسجد میں داخل ہو گیا، جہاں نائب امام حافظ ابراہیم نے اس کو ڈانٹا اور خوف کی وجہ سے اس بچے کا پیشاب نکل گیا۔ یہ معاملہ اس وقت رفع دفع ہو گیا تھا لیکن 25 جولائی کو ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں نامعلوم فرد کا نام ڈال دیا گیا۔ جب بچہ آٹھ سال کا تھا اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کا ذہنی توازن بھی صحیح نہیں تھا۔ تو ایف آئی آر میں نامعلوم فرد کا نام کیوں ڈالا گیا۔‘‘

ڈاکٹر جے پال  کے بقول کچھ دنوں بعد بچے کو گرفتار کر لیا گیا اور چار اگست یعنی کل اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر اس کی ضمانت ہوگئی۔ ضمانت پر وہاں کے مقامی لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مندر پر حملہ کر دیا۔

ڈاکٹر جے پال نے بتایا، ’’حملہ آوروں کے چہرے صاف طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور اگر پولیس چاہے تو انہیں آسانی سے گرفتار کر سکتی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ رحیم یار خان میں بسنے والے 150 سے 200 ہندو گھرانے انتہائی عدم تحفظ کا شکار ہیں ’کیوں کہ پولیس اسٹیشن سے مندر بمشکل پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے لیکن پولیس اس کو بھی بچانے کے لیے وقت پر نہیں پہنچی‘۔

سندھ کے علاقہ ہالا کی ہندو پنچایت کے سربراہ رمیش لال کا کہنا ہے کہ پوری کمیونٹی اس واقعے پر غمزدہ ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’رحیم یار خان میں یہ ہندو کمیونٹی مقامی ہے اور کافی عرصے سے وہاں رہ رہی ہے لیکن وہاں جو مندر پر حملہ ہوا ہے اس پہ پورے پاکستان کی ہندو کمیونٹی غمزدہ ہے۔ پہلے کرک میں مندر پر حملہ ہوا اور اب رحیم یار خان میں یہ واقعہ پیش آیا۔ تواتر سے ہونے والے ان حملوں پر پوری کمیونٹی پریشان ہے۔‘‘

تھر سے تعلق رکھنے والی دلت سجاگ تحریک کی رہنما رادھا بھیل کا کہنا ہے کہ رحیم یار خان کے واقعے کی وجہ سے پوری کمیونٹی میں بہت خوف ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس واقعے سے کمیونٹی میں احساس عدم تحفظ بہت بڑھ گیا ہے۔ میں رحیم یار خان سے اتنی دور بیٹھی ہوں اور مجھے یہ خوف ہے کہ میرے علاقے میں بھی کہیں ایسا کوئی واقعہ نہ ہو جائے۔ رحیم یار خان میں ہونے والا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے بھی پہلے ہمارے علاقے میں ایک ہندو لڑکے کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے ہی بھگوان کو برا بھلا کہے۔‘‘

رادھا کے بقول ہندو کمیونٹی نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا اور اس مسلمان بندے کو معاف کر دیا۔ 

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے رادھا نے مزید کہا، ’’لیکن اب یہ واقعہ ہو گیا ہے اور اگر حکومت نے ذمہ داروں کو گرفتار نہیں کیا اور ان کو سزا ئیں نہیں دیں تو اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔‘‘

ڈی ڈبلیو نے متعلقہ تھانے اور اس مقدمے کے شکایت کنندہ حافظ ابراہیم سے متعدد بار فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔