’ملک بدر کيے جانے والے پاکستانی مہاجرين کو جيل جانا ہو گا‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 28.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ملک بدر کيے جانے والے پاکستانی مہاجرين کو جيل جانا ہو گا‘

انسانی حقوق کے ليے سرگرم معروف وکيل ضياء احمد اعوان نے ڈوئچے ويلے کے ساتھ خصوصی گفتگو ميں پاکستان سے غير قانونی ہجرت کے وجوہات، ملک بدريوں اور يورپ کو درپيش مہاجرين کے بحران سے منسلک مسائل پر روشنی ڈالی۔

ڈی ڈبليو : پاکستان سے غير قانونی ہجرت کی وجوہات کيا ہيں؟

ضياء اعوان : پاکستان سے ہونے والی غير قانونی ہجرت کی وجوہات ميں غربت، بے روزگاری، سياسی عدم استحکام، جنگ زدہ حالات اور دہشت گردی شامل ہے۔ بہت سے پاکستانی حقيقی وجوہات کی بناء پر ترک وطن کرتے ہيں تاہم يہ بات بھی ہمارے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشاہدے ميں آئی ہے کہ صوبہ پنجاب ميں گجرات اور منڈی بہاؤدين جيسے متعدد علاقے ايسے ہيں، جہاں کچھ لوگ بچپن ہی سے يہ سوچ ليتے ہيں کہ انہيں بيرون ملک جانا ہے۔

ڈی ڈبليو : جب يہ حقائق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم ميں ہيں، تو غير قانونی ہجرت اور انسانوں کی اسمگلنگ کو روکا کيوں نہيں جاتا؟

ضياء اعوان : پاکستان کے پاس اتنے وسائل ہی نہيں کہ اس سلسلے ميں اقدامات کيے جائيں يا پوری سرحد کی نگرانی کی جائے۔ نہ ہی پاکستان کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات ايسے ہيں کہ بارڈر کے دونوں اطراف کی انٹيلی جنس معلومات کا تبادلہ کرے۔ يہی وجہ ہے کہ کئی لوگ فرار ہو جاتے ہيں اور يورپ يا کسی بھی ملک ميں جہاں ان لوگوں کو سہوليات ميسر ہوں گے، وہ وہاں جاتے رہيں گے۔

ڈی ڈبليو : کيا بيرونی عناصر بھی پاکستان سے غير قانونی ہجرت کی وجہ بنتے ہيں؟

ضياء اعوان : پاکستان ميں جو عدم اسحکام پايا جاتا ہے، وہ صرف ہمارا اپنا ہی پيدا کردہ نہيں۔ يہ بين الاقوامی سياست کی ايک کڑی ہے اور پاکستان اس ضمن ميں ہونے والی پيش رفت اور اس کے اثرات سے بری نہيں۔ ہميں جنگ کا ميدان بنايا گيا اور چونکہ ہمارے ليڈران کمزور ہيں، وہ ان چيزوں پر چُپ کر جاتے ہيں۔ اس کا نتيجہ اسی صورت ميں نکلتا ہے کہ خميازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ڈی ڈبليو : کيا ايسے مسائل کی روک تھام کے ليے داخلی سطح پر اقدامات کيے جا رہے ہيں؟

ضياء اعوان : پاکستان ميں صرف قانون کا نفاذ ہی کمزور نہيں بلکہ اميگريشن کی پاليسیاں بھی کمزور ہيں تاہم بظاہر ايسے کوئی اقدامات نظر نہيں آ رہے، جن سے يہ مسائل حل ہوں۔ يہ بھی اہم ہے کہ اس معاملے ميں سياسی قوت ادارہ بھی نظر نہيں آتا۔ ہمارے ہاں تمام بڑے بين الاقوامی اداروں کے دفاتر موجود ہيں ليکن اميگريشن کی پاليسی بہتر بنانے کے ليے کوئی حکمت عملی نہيں ہے۔ بہت سارے عناصر ہيں، جن کی وجہ سے پاکستان سے لوگ غير قانونی ہجرت کرتے ہيں۔ يہ بھی بتاتا چلوں کہ حقيقی طور پر جن کا سياسی پناہ کا حق بنتا ہے، وہ تو نکل ہی نہيں پاتے۔ بس کچھ لوگ ہيں، جو ان کمزوريوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سالہا سال سے بيرون ملک جا رہے ہيں۔

ڈی ڈبليو : پاکستانيوں کے يورپ ميں سياسی پناہ کے امکانات کيسے ہيں؟

ضياء اعوان : يورپی قوانين ايسے ہيں کہ لوگ کسی نہ کسی طرح رکاوٹوں کا حل نکال ليتے ہيں اور پاکستان ميں دستاويزی کارروائی آسانی سے ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب ظاہر ہے کہ ان قوانين کا لوگ غلط فائدہ بھی اٹھاتے ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ يہ معاملہ طلب اور ترسيل کا بھی ہے، يورپ کو بھی کم قيمت پر مزدور درکار ہيں۔

ڈی ڈبليو : يورپ ميں موجود بہت سے پاکستانی تارکين وطن اسلام آباد حکومت کے بغير شناخت والے پناہ گزينوں کو واپس نہيں لينے کے فيصلے پر تحفظات رکھتے ہيں۔ آپ اسے کيسے ديکھتے ہيں؟

ضياء اعوان : پاکستان کے وزير داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بغير شناخت والے افراد کو تسليم نہ کرنے کے حوالے سے کافی اچھا قدم اٹھايا تھا۔ اکثر ايسا ہوتا ہے کہ پاکستان ميں سالہا سال سے مقيم بنگلہ ديشی، ايرانی اور افغان شہری شناختی دستاويزات بنوا ليتے ہيں اور پھر ان ہی دستاويزات پر سفر کرتے ہيں۔ پھر جب يہ جرائم ميں ملوث پائے جاتے ہيں، تو بدنامی پاکستان کی ہی ہوتی ہے۔

ڈی ڈبليو : يورپ ميں سياسی پناہ کے معاملے ميں چند ممالک کے پناہ گزينوں کو فوقيت دی جا رہی ہے جبکہ چند ديگر ملکوں کے تارکين وطن کے امکانات کم ہيں، آپ اسے کس نظر سے ديکھتے ہيں؟

ضياء اعوان : شام کے پناہ گزينوں کو پناہ دی جائے گی اور ديگر ملکوں کے تارکين کو نہيں، يہ ايک سياسی فيصلہ ہے۔ اگر کوئی پاکستانی ہے اور وہ حقيقی طور پر سياسی پناہ کا حقدار ہے، تو اسے پناہ نہ ملنا ’نا انصافی‘ ہے۔ در اصل يورپی حکام کے پاس دستاويزات کے جائزے کے ليے اپنے ہاں تو نظام موجود تاہم ان کے پاس پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے يا اس بات کا اندازہ لگانے کے ليے کوئی انتظام نہيں کہ آيا دستاويزات اور کيس جعلی تو نہيں۔

اس مسئلے کا ايک اور اہم پہلو يہ بھی ہے کہ مہاجرت ميں اضافے کے ساتھ جو دہشت گردی ميں اضافہ ہو رہا ہے، اس سے دنيا بھر ميں ’سول لبرٹيز‘ يا شہری حقوق کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جن ممالک نے انسانی حقوق کی کافی اچھی پاليسياں ترتيب دے رکھی تھيں، اب وہ بھی تبديل ہو رہے ہيں اور ايسی پاليسياں ناياب ہوتی دکھ رہی ہيں۔

ضياء اعوان

ضياء اعوان

ڈی ڈبليو : ملک بدر کر ديے جانے والے پاکستانيوں کے ساتھ کيا ہو گا؟

ضياء اعوان : يورپ سے ملک بدر کر ديے جانے والے پاکستانيوں کے ليے ملک ميں کوئی نظام موجود نہيں۔ ہمارے ہاں قوانين سزا دينے کے ليے بنتے ہيں۔ پاکستانی اميگريشن قوانين کے تحت اگر کوئی شخص غير قانونی طريقے سے بيرون ملک گيا ہے، تو اسے جيل جانا پڑتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص ’پوليٹيکل وکٹم‘ ہے يعنی جسے سياسی مقاصد کے ليے امتيازی رويے کا سامنا ہو اور اسی سبب وہ ہجرت پر مجبور ہوا ہو، تو اسے بھی کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈی ڈبليو : يورپ ميں موجود چند پاکستانی تارکين وطن يہ دعویٰ کرتے ہيں کہ ملک بدری کے بعد متعلقہ حکام انہيں گرفتار کر ليتے ہيں اور انہيں رہائی کے ليے رشوت ادا کرنی پڑتی ہے؟

ضياء اعوان : پاکستان ميں کمزورياں ضرور ہيں ليکن ميں نہيں مانتا کہ ہر کيس ميں رشوت لی جاتی ہو۔ ايسا بھی نہيں کہ حکام بالکل ہی ظالم ہيں۔ اگر ملکی قانون ہی يہ کہتا ہے کہ جب کوئی شخص غير قانونی طريقے سے بيرون ملک گيا ہو، تو اسے قانونی کارروائی کا سامنا ہو گا۔ حکام اس سلسلے ميں کيا کر سکتے ہيں۔

ڈی ڈبليو : بالخصوص پاکستان کی بات کی جائے، تو يہاں سے غير قانونی ہجرت اور انسانوں کی اسمگلنگ کو روکنے کے ليے کيا اقدامات کيے جا سکتے ہيں؟

ضياء اعوان : يورپ اگر چاہتا ہے کہ لوگوں کی غير قانونی ہجرت کو روکا جائے، تو اسے پاکستان ميں سياسی استحکام کے ليے بھی کام کرنا چاہيے۔ وہ ہر طريقے سے چاہتے ہيں کہ ہم ان کے ليے کام کريں، خواہ وہ پاليسياں ہوں يا ادارے۔ مثال کے طور پر سعودی، يمنی تنازعے ميں پاکستان سے مدد کی توقع کی جا رہی ہے۔ دنيا ميں پاکستان کے کردار کو صرف استعمال کيا جا رہا ہے اور پھر الزام بھی پاکستان ہی پر رکھ ديا جاتا ہے۔

دنيا ميں انسانوں کی اسمگلنگ ايک بہت بڑا مسئلہ ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ يورپی ممالک بھی اس پر کنٹرول نہيں کر پائے۔ بين الاقوامی ادارے اور حکام ’ٹوکن‘ کے طور پر کبھی کبھی پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر کے چلے جاتے ہيں ليکن اس ميں کوئی تسلسل نہيں۔

ايک اور اہم بات يہ ہے کہ پاکستان ميں ہيومن ٹريفکنگ کی روک تھام کو يقينی بنانے کے ليے سول سوسائٹی کی مدد کو کوئی نہيں آتا۔ تو جب کسی مسئلے سے نمٹنے کے ليے نہ آپ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے تيار ہوں اور نہ ہی سول سوسائٹی، تو حل کيسے نکل سکتا ہے۔

DW.COM

اشتہار