مصر: سن 2013 کے دھرنے میں شرکت پر پچھتر افراد کو سزائے موت | حالات حاضرہ | DW | 08.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مصر: سن 2013 کے دھرنے میں شرکت پر پچھتر افراد کو سزائے موت

مصر کی ایک عدالت نے چند مذہبی رہنماؤں سمیت پچھتر افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔ سن 2013 کے ایک دھرنے میں شریک چھ سو افراد کو سزائے قید بھی دی گئی ہے۔ اس دھرنے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔

عدالت کی جانب سے کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کے حامیوں کو دی گئی ان سزاؤں سے پہلے قریب سات سو افراد پر مقدمات چلائے گئے تھے۔ ان افراد پر قاہرہ کے ربہ ادعاویہ اسکوائر میں ایک دھرنے کے دوران قتل اور تشدد کو ابھارنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مصری حکومت کا کہنا ہے کہ سن 2013 کے اس دھرنے میں زیادہ تر مظاہرین مسلح تھے اور پر تشدد جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل چالیس پولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں رپورٹ کی گئی تھیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سن 2011 میں مصر کی تاریخی بغاوت کے تناظر میں ہونے والے اس پُر تشدد دھرنے میں آٹھ سو مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔

Ägypten Proteste 29.11.2013 (Reuters)

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس پُر تشدد دھرنے میں آٹھ سو مظاہرین ہلاک ہوئے تھے

انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج بروز ہفتہ مصری عدالت کی جانب سے ديے جانے والے اس فیصلے کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ قاہرہ میں ایک فوجداری عدالت کے اس فیصلے میں اخوان المسلمون کے کئی اہم لیڈران کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالتی ذرائع نے کسی قسم کی وضاحت کیے بغیر بتایا ہے کہ پانچ ایسے افراد کے مقدمات بند کر دیے گئے ہیں جن کا سماعت کے دوران جیل ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔

عدالت نے ایک ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے جلد ہی رہا کر دیا جائے گا کیونکہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران جیل میں ہی پانچ سال گزار چکے ہیں۔

ابو زید پر کالعدم تنظیم سے منسلک ہونے اور اسلحہ رکھنے کے الزامات تھے۔

ص ح / ع س / نیوز ایجنسی

DW.COM