مصری صدر سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا، رجب طیب ایردوآن | حالات حاضرہ | DW | 24.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مصری صدر سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا، رجب طیب ایردوآن

ترک صدر نے مصر میں دی جانے والی پھانسیوں پر مصری حکومت پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ مصری حکام نے ملکی مستغیث اعلیٰ کو بم حملے میں قتل کرنے کے جرم میں نو افراد کو موت کی سزا حال ہی میں دی گئی ہے۔

کالعدم اخوان المسلمون کے نو مبینہ کارکنوں کو پھانسی دینے پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے مصری ہم منصب پر شدید الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے شخص کے ساتھ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ایردوآن کے مطابق مصری حکومت نے نو نوجوانوں کو پھانسیاں دی ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک ہے۔

ترک صدر نے سی این این ترک کو دیے گئے انٹرویو میں مزید کہا کہ جس انداز میں مصر میں پھانسی کی سزائیں دی جا رہی ہیں، وہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے یہی بتایا گیا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ تھا اور اُس پر عمل درآمد کیا گیا لیکن مصر میں عدالتی فیصلے ہوں یا انتخابات، سب بکواس ہیں۔ ایردوان کے مطابق مصر میں آمریت کا نظام رائج ہے، فرد واحد کی حکومت ہے، بلکہ مطلق العنانیت ہے۔

اس انٹرویو میں ترک صدر سے پوچھا گیا کہ وہ مصری صدر السیسی کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کرتے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے اس حوالے سے انہیں کئی مرتبہ مشورہ دیا ہے لیکن وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ السیسی سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

Ägypten Präsident Abdel Fattah al-Sisi (picture-alliance/dpa)

مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی

یاد رہے کہ مصری حکام نے بدھ بیس فروری کو سن 2015 میں ملکی چیف پراسیکیوٹر کو قتل کرنے کے جرم میں کالعدم سیاسی و مذہبی تنظیم اخوان المسلمون کے نو مشتبہ کارکنوں کو موت کی سزا دی تھی۔ ان افراد کی سزاؤں کی توثیق گزشتہ برس نومبر میں اعلیٰ ترین عدالت نے کر دی تھی۔ سزائے موت پانے والوں کی شناخت کے بارے میں مصری حکام نے کوئی تفصیل جاری نہیں کی تھی۔ ان مجرموں کو یہ سزائیں مصری چیف پراسیکیوٹر ہشام برکات کو ایک بم حملے کے ذریعے قتل کرنے کے جرم میں سنائی گئی تھیں۔ رواں برس کے دوران مصر میں اب تک پندرہ افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ سن 2013 کی فوجی بغاوت کے بعد مصر اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات تقریباً ختم ہو کر رہے گئے ہیں۔ سن 2013 میں موجودہ مصری صدر اور اُس وقت کے فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی نے اسلام پسند صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ صدر مرسی کو ترک صدر ایردوآن کا قریبی حلیف خیال کیا جاتا تھا۔

DW.COM