مصری خواتین کو بے وفا کہنے پر تین برس قید کی سزا | معاشرہ | DW | 12.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مصری خواتین کو بے وفا کہنے پر تین برس قید کی سزا

مصر کی ایک عدالت نے ملک کے ایک انتہائی مشہور فیس بک صارف کو تین برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس شخص نے کہا تھا کہ مصری خواتین اپنے خاوندوں کو دھوکا دیتے ہوئے ان سے بے وفائی کرتی ہیں۔

مصر کے مشہور فیس بک صارف تیمور السبکی کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ پراسیکیوٹرز کے جانب سے ان پر مصری خواتین کی عزت کو نقصان پہنچانے اور بہتان باندھنے ایسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

تیمور السبکی نے گزشتہ برس دسمبر میں ملک کے ایک مشہور ٹاک شو میں شرکت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا، جس کے بعد مصر بھر میں ہل چل مچ گئی تھی۔ تیمور السبکی کے فیس بک پر ایک ملین سے زائد فالورز ہیں اور وہ ’’مظلوم شوہروں کی ڈائریاں‘‘ نامی ایک پیج چلاتے ہیں۔

اس ٹاک شو میں تبصرہ کرتے ہوئے تیمور کا کہنا تھا کہ مصر کی تیس فیصد خواتین ’غیر اخلاقی تعلق‘ قائم کرنے پر تیار ہوتی ہیں لیکن انہیں کوئی حوصلہ افزائی کرنے والا نہیں ملتا۔ تمیور کا مصری خواتین سے متعلق مزید تبصرہ کرتے ہوئے تیمور السبکی کہنا تھا، ’’ آج کل اپنے خاوندوں کو دھوکا دینا خواتین کے لیے عام سی بات ہو گئی ہے اور وہ اپنے معاملات کو چھپانے کی بھی ماہر ہیں۔‘‘

تیمور السبکی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مصر کی بہت ساری ایسی خواتین کسی دوسری جگہ جنسی روابط قائم رکھے ہوئے ہیں، جن کے شوہر بیرون ملک کام کرتے ہیں۔

تیمور السبکی کا کہنا تھا کہ خواتین کی طرف سے اس بے وفائی کی ایک وجہ ملک کے جنوب میں ہونے والی وہ روایتی شادیاں بھی ہیں، جو والدین کی مرضی سے طے پاتی ہیں۔ تیمور کے مطابق اس طرح نتیجتاﹰ خواتین کی شادیاں ان مردوں سے ہو جاتی ہیں، جن سے وہ پیار ہی نہیں کرتیں۔

تیمور السبکی کے ان تبصروں کے بعد اس جنوب کے ایک نقاب پوش اور مسلح شخص نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو بھی جاری کر دی تھی، جس میں اس کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

اشتہار