1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
افغانستان کے قائم مقام وزیراعظم ملا محمد حسن آخوند
افغانستان میں طالبان حکومت کے قائم مقام وزیراعظم ملا محمد حسن آخوندتصویر: Balkis Press/Abaca/picture alliance
سیاستافغانستان

مسلم ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، طالبان وزیر اعظم

19 جنوری 2022

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیراعظم ملا محمد حسن آخوند نے اسلامی ممالک سمیت بین الاقوامی برادری سے ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی اپیل کی ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DB%8C%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85/a-60471403

افغانستان کے قائم مقام وزیراعظم  ملا محمد حسن آخوند  نے کابل میں آج بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ تمام شرائط مکمل کردی گئی ہیں اور اب بین الاقوامی برادری ملک میں طالبان حکومت  کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔

آخوند نے مزید کہا، ”میں خاص طور پر اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ہمیں تسلیم کریں۔" انہیں امید ہے کہ اس کے بعد ملک تیزی سے ترقی کر سکے گا۔

ملا حسن محمد آخوند نے یہ بات ملک میں شدید معاشی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے کہی۔ گزشتہ برس ستمبر میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی یہ افغان قومی نشریاتی ادارے پر نشر کی گئی پہلی گفتگو تھی۔

بین الاقوامی امداد کی بحالی

طالبان نے پچھلے سال اگست سے کابل کا کنٹرول  سنبھالا ہوا ہے تاہم بین الاقوامی برادری نے طالبان کی حکومت کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے۔ امریکا کی سربراہی میں مغربی ممالک نے افغانستان کے بینکوں کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈ بھی روک رکھے ہیں۔

افغانستان کابل بھوک غربت معاشی بحران
افغانستان میں لاکھوں افراد انتہائی غربت میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوچکے ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP

طالبان حکومت کے حکام اور وزیراعظم آخوند نے نیوز کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا کہ امداد کی فراہمی پر عائد پابندی میں نرمی کی جائے کیونکہ پابندی کے نتیجے میں ملک میں  معاشی بحران  زور پکڑ رہا ہے۔

آخوند کے بقول، ”قلیل مدتی امداد حل نہیں ہے، ہمیں بنیادی طور پر مسائل کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"

معاشی بحران، ایک سنگین مسئلہ

بین الاقوامی برادری نے  افغانستان میں بحرانی صورتحال  سے فوری طور پر نمٹنے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے  انسانی امداد  گوکہ تیزکردی ہے۔ لیکن ملک کو سخت سرد موسم، نقد رقم کی کمی، اور بگڑتی ہوئی معیشت کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے لاکھوں افراد انتہائی غربت میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے اہلکار بھی موجود تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغانستان کے لیے خصوصی مندوب ڈیبرا لیون نے اس دوران کہا کہ افغانستان میں معاشی بحران ایک سنگین مسئلہ ہے جسے تمام ممالک کی طرف سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، "اقوام متحدہ افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے اور بنیادی طور پر معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔"

اس موقع پر افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان حکومت عالمی برادری کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی خواہاں ہے۔

ع آ / ج  ا (اے ایف پی، روئٹرز)

افغانستان سے منشیات پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

شہباز گل کی گرفتاری، پاکستانی سیاست میں مزید تناؤ کا خدشہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں