مسلمانوں کے روزوں کے مہینے رمضان کا آغاز
10 جولائی 2013
جرمنی میں آباد بڑی ترک مسلمان کمیونٹی تقریباً ہر سال ایک دن پہلے روزہ رکھتی ہے اور اس مرتبہ بھی انہوں نے منگل کو پہلا روزہ رکھا۔ سعودی عرب کے علاوہ اردن، کویت، قطر، یمن میں بھی رمضان کے مہینے کا آغاز آج بدھ سے ہو رہا ہے۔ امریکا میں پہلا روزہ منگل کے دن رکھا گیا تھا۔ یورپی ملکوں میں جہاں جہاں ترک یا ترک نژاد کمیونٹی آباد ہے، انہوں نے منگل کے روز سے روزے رکھنا شروع کر دیے ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق اس مرتبہ یورپ میں سب سے لمبا روزہ سویڈن میں ہو گا جو تقریباً اٹھارہ گھنٹے کے برابر ہو گا۔ ایک اور یورپی ملک فِن لینڈ میں بھی روزہ بند کرنے اور کھلنے کا عرصہ تقریباً اٹھارہ گھنٹے کے قریب ہو گا۔
پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سارے ملک میں چاند دیکھنے کی درست اور صیحح شہادت میسر نہیں ہو سکی اور اس باعث پہلا روزہ جمعرات کے دن ہو گا۔ پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کی روایت رہی ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ روزہ شروع کرتے تھے لیکن اس مرتبہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے اعلان کے مطابق رمضان کا چاند نظر نہیں آیا اور پہلا روزہ جمعرات کو ہوگا۔ کئی برسوں کے بعد پاکستان میں ایک ساتھ رمضان کے مہینے کا آغاز ہو رہا ہے۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی جامع مسجد کے امام ے اعلان کے مطابق پہلا روزہ جمعرات کو ہو گا۔
جرمنی کے ہمسایہ ملک فرانس میں رمضان کے مہینے کو سائنسی بنیادوں پر شروع کرنے کا سمجھوتا ضرور ہوا لیکن کنفیوژن کی وجہ سے کچھ لوگوں نے منگل کو پہلا روزہ رکھ لیا اور بقیہ آج سے روزوں کا آغاز کریں گے۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے شمالی حصے کے مسلمان اور ایک دوسرے شہر لیوں کے مسلمانوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا تھا۔ فرانس کی مسلم کمیونٹی کے لیڈران نے رواں برس مئی میں سائنسی اصولوں پر طے کیا کہ منگل نو جولائی سے رمضان کا آغاز ہو گا لیکن عین وقت پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے سعودی عرب کے اعلان کے مطابق روزے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس میں پیرس کی گرینڈ مسجد کے امام بھی شامل ہیں۔ فرانس میں پچاس لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام کے متحارب دھڑوں اور تمام لوگوں بشمول لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقدس مہینے رمضان کے احترام میں جنگ و جدال سے گریز کریں۔ بان کی مون کے مطابق اگو وہ اس ماہ کے دوران جنگ سے گریز کرتے ہیں تو امن کی راہ ہموار ہونے میں آسانی ہو گی۔ ادھر عرب دنیا کے ایک اور سیاسی عدم استحکام کے ملک مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے بھی اپنے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں مظاہروں کے سلسلے کو روکتے ہوئے ملک میں امن و سلامتی کی فضا کو قائم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔