مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار نہ دیے جانے پر بھارت ’مایوس‘ | حالات حاضرہ | DW | 14.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار نہ دیے جانے پر بھارت ’مایوس‘

پاکستان میں وجود رکھنے والی کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دلانے کی کوشش ناکام ہوجانے پر بھارت نے ’مایوسی ‘ کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف بھارت میں عام انتخابات کے موسم میں اس نئی پیش رفت پر حکمران او ر اپوزیشن جماعتو ں کے درمیان محاذ آرائی بھی شروع ہوگئی ہے۔
بھارت کو بدھ 13 مارچ کو سفارتی محاذ پر اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اقو ام متحدہ سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردکی فہرست میں شامل کرنے کے لیے پیش کی گئی تجویز کو چین نے ’ٹیکنیکل ہولڈ‘ کا سہارا لیتے ہوئے روک دیا۔ بھارت نے ثبوت کے طور پر اس آڈیو ٹیپ کو پیش کیا تھا جس میں مسعود اظہر نے 14 فروری کو پلوامہ میں بھارت کے نیم فوجی دستے پر ہوئے حملے کی مبینہ طورپر ذمہ داری قبول کی تھی۔ چین نے یہ کہتے ہوئے تجویز کی تائید کرنے سے انکار کردیا کہ مسعود اظہر کے خلاف پختہ ثبوت نہیں ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ’’ہم مایوس ہیں، لیکن ہم تمام دستیاب متبادل پر کام کرتے رہیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ بھارتی شہریوں پر ہوئے حملوں میں شامل دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے۔‘‘ بھارتی وزارت خارجہ نے مزید کہا، ’’ہم تجویز پیش کرنے والے ملکوں کے مشکور ہیں۔ ہم سلامتی کونسل کے دیگر اراکین اور غیر مستقل اراکین کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اس کوشش میں بھارت کا ساتھ دیا۔‘‘

Indien Politiker Rahul Gandhi

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی چین کے صدر شی جنگ پنگ سے خوف کھاتے ہیں۔ جب بھی چین بھارت کے خلاف کوئی ایکشن لیتا ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی کچھ بھی نہیں بولتے۔‘‘

بھارت نے اپنے اس بیان میں چین کا نام لیے بغیر کہا، ’’کمیٹی مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکی کیوں کہ ایک رکن ملک نے اس میں روڑے اٹکا دیے۔‘‘
گزشتہ دس برسوں کے دوران مسعود اظہر کو اقو ام متحدہ سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارت کی یہ چوتھی کوشش تھی۔ ا س سے قبل 2009، 2016 اور 2017 میں بھی اسی طرح کی کوششیں کی گئی تھیں لیکن بیجنگ نے انہیں بھی ناکام بنادیا تھا۔

بھارتی سفارتی ذرائع نے تاہم اس امر پر قدرے اطمینان کااظہار کیا ہے کہ اس مرتبہ سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل 15 اراکین میں سے مجموعی طورپر 13 اراکین نے تجویز پیش کی تھی۔ جو اس بات کا مظہر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کی عالمی حمایت میں اضافہ ہو ا ہے۔ یہ تجویز فرانس کی قیادت میں 27 فروری کو پیش کی گئی تھی اور رکن ملکوں کو اپنا اعتراض داخل کرانے کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا جو بھارتی وقت کے مطابق 13مار چ کی رات ساڑھے بارہ بجے ختم ہو رہی تھی لیکن اس سے صرف ایک گھنٹہ پہلے چین نے اس تجویز پر ’تکنیکی روک‘ لگا دی۔ چین نے تجویز پر غور کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔ یہ تکنیکی روک چھ ماہ تک قائم رہ سکتی ہے اور اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی ہے۔
اسٹریٹیجک امور کے بھارتی ماہر کیپٹن اُدے بھاسکر کے مطابق یہ کوئی غیر متوقع پیش رفت نہیں ہے: ’’یہ افسوس ناک ہے لیکن اس میں حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ پہلے سے ہی بہت واضح تھا کہ چین پاکستان کے لیے اپنی حمایت بند نہیں کرے گا۔‘‘
اسٹریٹیجک امور کے ماہر راجیو شرما نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’فوری نقطہ نظر سے تو ہم اسے شکست کہہ سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ چین طویل المدتی سفارت کاری کر رہا ہے۔ وہ مختلف امور پر بات چیت میں بھارت کو بھی شامل کر رہا ہے۔ خاص طور پر جب سے امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘

Indien Mumbai Proteste gegen radikale Islamisten aus Pakistan

گزشتہ دس برسوں کے دوران مسعود اظہر کو اقو ام متحدہ سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارت کی یہ چوتھی کوشش تھی۔

راجیو شرما کا مزید کہنا تھا، ’’ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ چین کے پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، پاکستان میں چین کا بہت ساسرمایہ بھی لگا ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ساتھ دینا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔‘‘
پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر گوتم بمبا والے کا خیال ہے، ’’پاکستان کے حوالے سے ہمارے پاس بین الاقوامی برداری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پلوامہ حملہ کے بعد تقریباً تمام بڑے ملکوں نے اپنے دفاع اور اپنی دھرتی پر دہشت گردانہ حملہ کو روکنے کے لیے ضرورت پڑنے پر اقدامی کارروائی کرنے کے بھارت کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ سلامتی کونسل میں فرانس کی قیادت میں تین مستقل رکن ملکوں نے مسعود اظہر کے خلاف تجویز پیش کی۔ اس سے پہلے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی کمیٹی ایف اے ٹی ایف میں بھی اس معاملے میں بھارت کا ساتھ دیا۔ ہمیں اسی راستے پر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘

مسعود اظہر کے معاملے پر بھارت میں سیاسی محاذ آرائی

دریں اثنا اس نئی پیش رفت پر یہاں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ مودی حکومت دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے بالاکوٹ پر مبینہ فضائی حملہ کے بعد مسعود اظہر کو عالمی دہشت گر د قراردینے کے معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ہرممکن کوشش کر رہی تھی لیکن تازہ پیش رفت سے اسے مایوسی ہاتھ لگی ہے۔
اس پورے معاملے میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بی جے پی حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے حکومت کی اسٹریٹیجک اور سفارتی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی ایک بار پھر اجاگر ہوگئی ہے۔ پارٹی کے اعلٰی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا، ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آج پھر ایک مایوس کن دن ہے۔ 56 انچ والی گلے ملنے کے سفارت کاری (ہگپلومیسی) اور جھولا جھولنے کے کھیل کے بعد بھی چین پاکستان کا اتحاد بھارت کو ’لال آنکھ‘ دکھا رہا ہے۔ ایک بار پھر ایک ناکام مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی اجاگر ہوئی۔‘‘

Indien Außenministerin Sushma Swaraj

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان بڑے مدبر اور بڑے فراخ دل ہیں، اگر وہ واقعی اتنے فراخ دل ہیں تو مسعود اظہر کو بھارت کو سونپ دیں، بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج


کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی چین کے صدر شی جنگ پنگ سے خوف کھاتے ہیں۔ جب بھی چین بھارت کے خلاف کوئی ایکشن لیتا ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی کچھ بھی نہیں بولتے۔‘‘ ایک اور ٹوئیٹ میں راہول گاندھی نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’وزیر اعظم گجرات میں شی جن پنگ کے ساتھ جھولا جھولتے ہیں، دہلی میں شی جن پنگ کو گلے لگاتے ہیں اور چین میں ان کے سامنے جھک جاتے ہیں۔‘‘
دوسری طرف بی جے پی نے تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا۔ اس نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر پر کہا، ’’چین آج سلامتی کونسل کا رکن نہیں ہوتا اگر آپ (راہول گاندھی) کے نانا (پہلے وزیر اعظم) پنڈت نہرو نے اسے بھارت کی قیمت پر چین کو یہ سیٹ تحفہ میں نہیں دی ہوتی۔‘‘
اس دوران بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھارت کے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ سشما سوراج کا کہنا تھا، ’’ہم پاکستان سے دہشت گردی سے پاک ماحول میں بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان بڑے مدبر اور بڑے فراخ دل ہیں، اگر وہ واقعی اتنے فراخ دل ہیں تو مسعود اظہر کو بھارت کو سونپ دیں۔‘‘

DW.COM