مسعود اظہر دہشت گرد قرارِ،  مودی کی سفارتی کامیابی ؟ | حالات حاضرہ | DW | 02.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسعود اظہر دہشت گرد قرارِ،  مودی کی سفارتی کامیابی ؟

تجزیہ کار اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیے جانے کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارتی فتح قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابات میں کامیابی کے امکانات ممکنہ طور پر اس لیے بڑھ گئے ہیں کیوں کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی کمیٹی نے جیش محمد کے بانی اور سربراہ مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے انہیں دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ نئی دہلی نے دس سال قبل پہلی مرتبہ یہ مطالبہ کیا تھا۔

 مسعود اظہر نے کچھ ماہ قبل بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے علاقے پلوامہ میں  چالیس پولیس اہلکاروں کو ایک خود کش حملے میں ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بھارت جیش محمد کو 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا ذمہ دار بھی قرار دیتا ہے۔ اور بھارت کا مقامی میڈیا مسعود اظہر کو ملک کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے۔ پلوامہ حملے کے ردعمل میں بھارتی وزیر اعظم کے حکم پر بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو کر مبینہ طور پر جیش محمد کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ پاکستان نے بھارت کے اس دعوے کو غلط قرار دیا تھا۔ 

بھارتی وزیر اعظم نے انتخابات میں سکیورٹی کے مسئلے کو اپنے منشور میں اول پوزیشن پر رکھا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 23 مئی کو آنے والے انتخابی نتائج پر مسعود اظہر سے متعلق خبر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے فیصلے کے بعدایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’ دنیا 1.3 ارب  بھارتیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتی، اقوام متحدہ کا فیصلہ تو صرف ایک آغاز ہے۔‘‘

چین کو پاکستان کا سب سے اہم دوست ملک ٹہرایا جاتا ہے۔ چین کئی مرتبہ اقوام متحدہ کی جانب سے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے فیصلے میں روکاٹ بنا ہے۔ بدھ کو ایک بیان میں چین کی جانب سےکہا گیا کہ اسے مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

 واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر میں جنوبی ایشا کے سینئر ایسوسی ایٹ مائیکل کوگلمن کا کہنا ہے،’’ اس فیصلے سے مودی کو سیاسی طور پر کافی فائدہ ہو گا۔ اب وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی کئی سالوں کی محنت رنگ لے آئی ہے اور وہ اسے پاکستان کے خلاف اپنی بڑی کامیابی قرار دیں گے۔‘‘

مائدالاسلام کولکتا سینٹر فار اسٹڈیز ان سوشل سائنسز میں پروفیسر  ہیں۔ ان کا کہنا ہے ابھی اتر پردیش، بیہار اور مغربی بنگال میں انتخابات ہونے ہیں۔ اب اظہر ایک اور معاملہ بن گیا ہے جس پر مودی گفتگو کر سکتے ہیں۔ مودی کے پاس  کسانوں اور بے روزگاری کے بارے میں تو بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن مسعود اظہر سے متعلق فیصلے سے وہ قومی سکیورٹی  پر اپنی انتخابی مہم چلائیں گے۔’’

پاکستان معلومات چھپا رہا ہے، بھارتی الزام

امریکا مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے کوشاں

عالمی سلامتی کونسل نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دے دیا

ب ج/ ک م (روئٹرز)

DW.COM