مسرور نواز جھنگوی کے لیے ’امن کا ایوارڈ‘، حکومت پر تنقید | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسرور نواز جھنگوی کے لیے ’امن کا ایوارڈ‘، حکومت پر تنقید

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے نو منتخب رکنِ پنجاب اسمبلی مسرور جھنگوی کو ’امن کے ایوارڈ‘سے نوازہ ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

یہ ’امن شیلڈ‘ اسلام آباد میں حکومتی نیشنل پیس کونسل کی طرف سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں دی گئی۔ اس کونسل کا کام بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کام کرنا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد فیس بک اور ٹوئٹر پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انتہاپسندی پر گہری نظر رکھنے والے مصنف فاروق طارق نے اس حکومتی عمل پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ ایسے لوگوں کو ایوارڈ سے نوازا جارہا ہے۔ یہ ایک انتہائی شرمناک قدم ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اچھے اور برے طالبان کی پالیسی پر اب بھی عمل پیرا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پہلے ان کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی اور اب انہیں اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔‘‘
مسرور نواز نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ سیاست ترک کر چکے ہیں لیکن لیہ سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما قمر شیرازی کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے،’’میں ماضی میں خود سپاہ صحابہ میں رہا چکا ہوں۔ یہ ان کے خمیر میں ہی نہیں ہے کہ وہ فرقہ وارانہ سیاست کو ترک کر دیں۔ نون لیگ نے اِن کو اپنے جلسوں میں لا کر اور وزیر داخلہ نے ان سے ملاقاتیں کر کے انہیں مزید طاقت ور بنایا ہے۔ نون لیگ ان فرقہ وارانہ عناصر کو استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو ڈراتی ہے لیکن اس طرزِ سیاست سے ملک کو بہت نقصان ہوگا۔‘‘


سوشل میڈیا پر مسرور جھنگوی کے کالعدم سپاہ صحابہ اور موجودہ اہل سنت والجماعت سے تعلقات کے چرچے ہیں لیکن اہلسنت والجماعت کے رہنما انیب فاروقی نے اس بات کو رد کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’مسرور صاحب شروع سے ہی ایک مدرسے سے وابستہ رہے ہیں اور ان کا اہلسنت والجماعت یا سپاہ صحابہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کی ساری مخالف جماعتوں نے تقریبا پینتالیس ہزار ووٹ لئے ہیں جب کہ ان کو اڑتالیس ہزار ووٹ ملے ہیں، جس سے عوام کا ان پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
نون لیگ پر صرف مخالفین ہی تنقید نہیں کر رہے بلکہ ان کی پارٹی کے اپنے کچھ رہنما بھی وفاقی وزیر کے اس اقدام پر چراغ پا ہیں۔ رکنِ پنجاب اسمبلی اور نون لیگ کی معروف رہنما عظمیٰ بخاری نے اس حکومتی اقدام پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’مجھے خود بھی حیرت ہے کہ مسرور نواز کو کس بنیاد پر یہ امن ایوارڈ دیا گیا۔ چوہدری نثار نے مولانا لدھیانوی سے ملاقات کی تھی اور اس پر حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اب سردار یوسف کے اس اقدام سے نہ صرف حکومت پر تنقید ہوگی بلکہ مخالفین یہ پروپیگنڈہ کریں گے کہ نون لیگ کے کالعدم جماعتوں سے روابط ہیں۔ میرے خیال میں سردار یوسف کے اس اقدام پر اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جائے گا اور انہیں اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑے گی۔‘‘
پنجاب اسمبلی میں مسرور جھنگوی مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام کے اتحادی بنے ہیں۔ جمیعت ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حق نواز جھنگوی کا تعلق ہماری ہی پارٹی سے تھا لیکن فرقہ وارانہ سیاست شروع کرنے پر انہیں پارٹی چھوڑنی پڑی۔ اب اگر اُن کا بیٹا اس طرز سیاست کو ترک کر کے قومی دھارے کی سیاست کرنا چاہتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ مولانا احمد لدھیانوی بھی کسی مرحلے پر جمعیت میں شمولیت اختیار کر لیں لیکن ہم ان پر واضح کریں گے کہ جے یو آئی ایف کا فرقہ وارانہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں اس طرزِ سیاست کو خیر باد کرنا پڑے گا۔‘‘

اشتہار