مسئلہ کشمیر کا حل پرامن مکالمت سے، پاکستانی سعودی اعلامیہ | حالات حاضرہ | DW | 09.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسئلہ کشمیر کا حل پرامن مکالمت سے، پاکستانی سعودی اعلامیہ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سن دو ہزار تین کے معاہدے کے تحت فائر بندی پر عمل درآمد سے متعلق حالیہ بات چیت کو سراہا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہء سعودی عرب سے متعلق اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر زور دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، ''اطراف کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے ذریعےکشمیر سمیت تمام دو طرفہ امور کا بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا انتہائی اہم ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔‘‘

گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس وقت تناؤ کا شکار ہو گئے تھے جب پاکستان ریاض حکومت سے یہ توقع کر رہا تھا کہ او آئی سی کے اجلاس میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا جائے گا لیکن سعودی عرب نے پاکستان کی اس خواہش کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔ تب سعودی عرب نے پاکستان کو دیا گیا ایک ارب ڈالر کا قرضہ بھی واپس لے لیا تھا اور پاکستان کو مشکل وقت میں چین سے مدد مانگنا پڑی تھی۔ تاہم اب عمران خان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کو دونوں ممالک کے مابین تناؤ کی کمی اور تعلقات کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

افغانستان کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد  افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ اعلامیے کے مطابق، ''پاکستانی اور سعودی قیادت نے افغان امن عمل کے حوالے سے مشترکہ مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔‘‘

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ افغانستان کا ایک جامع سیاسی حل، جس میں ملک کے تمام اہم سٹیک ہولڈرز شامل ہوں، وہی قیام امن کا واحد راستہ ہے۔ پاکستانی اور سعودی قیادت نے افغانستان کے تمام اہم فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک میں قیام امن کے موجودہ تاریخی موقع کو سمجھیں اور اسے استعمال کرتے ہوئے ایک سیاسی حل کی جانب بڑھیں۔

سعودی ولی عہد نے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات میں یمن، فلسطین اور لیبیا کے تنازعات کے پر امن حل پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وزیر اعظم کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے دوران دونوں ممالک نے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام، توانائی، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے منصوبوں کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان 'سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل‘ قائم کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

جنرل باجوہ کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

سعودی عرب مشکل میں: پاکستان میں کئی حلقوں کی طرف سے حمایت