مسئلہ کشمیر: پاکستانی اور بھارتی سوشل میڈیا پر متضاد خبریں | حالات حاضرہ | DW | 04.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسئلہ کشمیر: پاکستانی اور بھارتی سوشل میڈیا پر متضاد خبریں

بھارتی حکام نے سری نگر میں مظاہرہ کرنے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان اور بھارت سوشل میڈیا پر کشمیر کی صورت حال کے بارے میں متضاد خبریں شائع کر رہے ہیں۔

پانچ اگست کے روز کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور جموں و کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کے بعد کشمیری مظاہرین کی ہلاکتوں کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں لیکن بھارتی حکام ایسی خبروں کی تردید کرتے رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تین اعلیٰ حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ سری نگر کے ایک مظاہرے میں شامل اٹھارہ سالہ نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ بھارتی حکام نے پہلی مرتبہ کسی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اسے پانچ اگست کے بعد سے اب تک 'پہلی ہلاکت‘ قرار دیا ہے۔

ہلاک ہونے والے اٹھارہ سالہ نوجوان کا نام اسرار احمد خان بتایا گیا ہے جو سری نگر کے علاقے الٰہی باغ کا رہائشی تھا۔ حکام کے مطابق اسرار احمد چھ اگست کے روز ایک مظاہرے کے دوران زخمی ہوا تھا اور وہ منگل تین ستمبر کے روز ہلاک ہوا۔

روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کے نوجوان کی ہلاکت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''وہ مبینہ طور پر ایک تیز دھار شے لگنے سے اس وقت زخمی ہوا تھا جب پر تشدد ہجوم پتھراؤ کر رہا تھا۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے مابین سوشل میڈیا پر 'جنگ‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی تو میڈیا بلیک آؤٹ اور رابطوں کے ذرائع منقطع ہونے کے سبب اپنی صورت حال کے بارے میں آگاہ کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم کشمیر کی صورت حال کے بارے میں پاکستان اور بھارت نہ صرف سفارتی سطح پر سرگرم ہیں بلکہ روایتی اور سوشل میڈیا پر بھی فریقین متضاد خبریں سامنے لا رہے ہیں۔

بھارتی حکام میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورت حال کو پر امن قرار دے رہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے امریکا میں بھارتی سفیر سے منسوب ایک دعویٰ شائع کرتے ہوئے لکھا، ''وادی کشمیر کا 91 فیصد علاقہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے اور لوگ اپنے رشتہ داروں سے آزادانہ طور پر رابطہ کر رہے ہیں۔‘‘

ٹائمز آف انڈیا نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ''پتھراؤ کرنے والا ٹین ایجر 'چھوٹا ڈان‘ پکڑ لیا گیا، اسے جموں و کشمیر میں کم عمروں کی جیل بھیجا گیا ہے۔‘‘

نسبتا غیر معروف بھارتی رونامہ ایکسلسیو نے کشمیر میں بھارتی  فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں سے منسوب ایک بیان ٹوئیٹ کیا۔ ''پاکستان وادی کشمیر میں زیادہ سے زیادہ دہشت گرد بھیجنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ وادی میں امن کی صورت حال خراب کی جا سکے۔ اکیس اگست کے روز ہم نے دو پاکستانی شہریوں کو پکڑا، جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔‘‘

دوسری جانب پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے لکھا گیا، ''پاکستان 'بھارتی مقبوضہ‘ جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے اور اس ہر ممکن سفارتی ذرائع استعمال میں لاتے ہوئے دنیا کو صورت حال سے آگاہ کر رہا ہے۔‘‘

ریڈیو پاکستان نے برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب سے وابستہ ایک بیان ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا، ''برطانوی وزیر خارجہ نے زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں تحفظات نے کشمیر کو ایک بین الاقوامی مسئلہ بنا دیا ہے۔‘‘

پاکستان نیوز کے ٹوئیٹر ہینڈل سے پاکستان کی وفاقی کابینہ کے بارے میں لکھا گیا، ''وفاقی کابینہ نے ہر جمعے کے روز کشمیر آور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

'کم سن سالار‘ نامی ٹوئیٹر ہینڈل سے دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے لائن آف کنٹرول کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی۔

ویڈیو دیکھیے 03:55

کیا کشمیری اپنوں سے رابطے کر پا رہے ہیں؟

DW.COM

Audios and videos on the topic