مدارس کے حوالے سے آرمی چیف کا بیان، لبرل خوش، مذہبی طبقہ نا خوش | حالات حاضرہ | DW | 09.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مدارس کے حوالے سے آرمی چیف کا بیان، لبرل خوش، مذہبی طبقہ نا خوش

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کہا ہے کہ مدارس کے نظامِ تعلیم میں وسعت کی ضرورت ہے تاکہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں زیادہ مثبت کردار ادا کر سکیں۔

default

جنرل قمر جاوید باجوہ

جمعرات سات دسمبر کو کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے واضح طور پر کہا کہ وہ مذہبی مدرسوں کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گزشتہ چار دہائیوں میں معیاری اسکولوں سے زیادہ مدارس قائم ہوئے: ’’ان مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جارہی ہے۔ اس لیے ترقی کی دوڑ میں یہ طالبِ علم پیچھے رہے جاتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جتنی بڑی تعداد میں مدرسوں سے طالبِ علم نکل رہے ہیں، اتنی بڑی تعداد میں مسجدیں تعمیر کر کے انہیں روزگار فراہم کرنا نا ممکن ہے۔

Pakistan Koranschule in Lahore Schüler

مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جارہی ہے۔ اس لیے ترقی کی دوڑ میں یہ طالبِ علم پیچھے رہے جاتے ہیں، جنرل باجوہ


اس بیان پر ملک کے مذہبی حلقے چراغ پا ہیں جب کہ روشن خیال افراد اس بیان کو مثبت قرار دیتے ہیں۔ آرمی چیف کے بیان پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے دارالعلوم بنوریہ العالمیہ سائٹ کراچی کے سربراہ مفتی نعیم نے کہا، ’’کیا آرمی چیف جنرل باجوہ نے کسی مدرسے کا کبھی دورہ کیا ہے۔ یہ ان کا مغالطہ ہے کہ مدرسوں سے فارغ ہونے والے طالبِ علموں کو روزگار نہیں ملتا۔ صرف میرے ہی دارالعلوم میں ایک سو کے قریب عالموں کی ضرورت ہے۔ جو علماء مدرسے سے فارغ ہوتے ہیں انہیں نہ صرف پاکستان میں روز گار مل رہا ہے بلکہ وہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دنیا کے کئی ممالک میں آسانی سے روزگار حاصل کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی سے نکلنے والے طلبہ و طالبات ڈگری لیے در در کی ٹھوکریں کھار ہے ہیں۔ پانچ سو پائلٹس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ بے روز گار ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں انجینیئرز اور ایم اے پاس بھی روزگار کی تلاش میں گھوم رہے ہیں۔ حکومت کو ان کی فکر کرنی چاہیے۔ وہ ہمارے بارے میں فکر مند ہونا چھوڑ دیں۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں مفتی نعیم نے کہا، ’’مجھے بتائیں کہ آپ نے کتنے مولوی بے روزگار دیکھے۔ کتنے مولویوں نے خود کشی کی۔ کتنے مدارس میں فسادات ہوئے۔ آپ کی یونیورسٹیوں میں تو آئے دن طلباء تنظیموں میں خونریز تصادم ہوتے ہیں۔ آرمی چیف کو معلوم نہیں کہ اب مدارس میں عالم کے کورس کے لیے میٹرک کی شرط لازمی ہے۔ طالبِ علم اب کمپیوٹر اور انگریزی بھی سیکھتے ہیں۔‘‘
لیکن معروف دانشور اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر مہدی حسن کا اس حوالے سے مفتی نعیم کے ساتھ سخت اختلاف ہے۔ ان کے خیال میں مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب نہ صرف روز گار کے مواقع فراہم نہیں کر سکتا بلکہ ان مدارس کی وجہ سے معاشرے میں عدم رواداری بھی بڑھ رہی ہے۔آرمی چیف کے بیان پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملک میں تیس ہزار کے قریب رجسٹرڈ مدارس ہیں جب کہ ہزاروں کی تعداد میں غیر رجسٹرڈ مدارس بھی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں طالبِ علم وہاں پڑھ رہے ہیں لیکن بمشکل ایک چھوٹی سے تعداد شہروں اور دیہاتوں میں خطیب یا مؤذن کے طور پر روزگار حاصل کر پاتی ہے کیونکہ وہاں جو نصاب پڑھایا جارہا ہے وہ بہت پرانا ہے اور اس کی آج کے دور میں اتنی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ آج ان مدارس کی وجہ سے ایک چھوٹی سے اقلیت نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہ اپنے فیصلے ملک کی اکثریت پر تھوپ رہی ہے: ’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں ساڑھے تین سو سے زیادہ سیاسی جماعتیں ہیں لیکن نہ ان کی توجہ تعلیم پر ہے اور نہ ہی انتہا پسندی پر، جس کی وجہ سے آج پورا سماج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔‘‘

Pakistan Karachi Mufti Naeem

آرمی چیف کا مغالطہ ہے کہ مدرسوں سے فارغ ہونے والے طالبِ علموں کو روزگار نہیں ملتا، مفتی نعیم


مدارس سے فارغ التحصیل کئی طالب علم بھی آرمی چیف کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مدرسوں کے طالبِ علم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور بہتر روزگار حاصل نہیں کر پاتے۔ پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی درس گاہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل حافظ عدنان سعید کے خیال میں مفتی نعیم کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں نے دوہزار دس سے دارالعلوم کراچی سے حفظ کیا۔ میرے ساتھ پانچ سو ساٹھ طالبِ علم تھے، جس میں سے بمشکل آٹھ دس لوگوں کو کسی مسجد میں امامت مل گئی ہے۔ بقیہ سب بے روزگار گھوم رہے ہیں۔ ان مدارس کے طالبِ علموں کو نہ انگریزی آتی ہے اور نہ ہی دوسرے سائنسی علوم، لہٰذا ان کو کہیں روزگار نہیں ملتا۔ ان مدارس میں لڑکوں کو کوئی ہنر بھی نہیں سکھایا جاتا، تو انہیں فیکڑیوں یا ورکشاپوں پر بھی روز گار نہیں ملتا۔ ‘‘

Pakistan Madrassas in Islamabad

میں نے دوہزار دس سے دارالعلوم کراچی سے حفظ کیا۔ میرے ساتھ پانچ سو ساٹھ طالبِ علم تھے، جس میں سے بمشکل آٹھ دس لوگوں کو کسی مسجد میں امامت ملی ہے، حافظ عدنان سعید


ایک سوال کے جواب میں حافظ عدنان سعید نے کہا، ’’مسجدیں اتنی نہیں ہیں جس تعداد میں طلباء مدارس سے فارغ ہور ہے ہیں۔ دورانِ تعلیم کھانا پینا اور وظیفہ مدارس کی طرف سے دیا جاتا ہے تو لڑکوں کو کچھ بوجھ محسوس نہیں ہوتا لیکن فارغ ہونے کے بعد ان پر ذمہ داریوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں، جس سے نمٹنا ان کا بہت مشکل ہوتاہے۔‘‘

DW.COM